بنگلہ دیشی اعلیٰ سطحی وفد کا ڈا یونیورسٹی کا دورہ، طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ

ہفتہ 11 اپریل 2026 16:53

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 اپریل2026ء) ڈائویونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (DUHS) میں بنگلہ دیش سے آئے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے دورہ کیا، وفد کا استقبال وائس چانسلر نازلی حسین نے کیا جن کی قیادت میں جامعہ نے خطے میں طبی تعلیم، تحقیق اور علاج معالجہ کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے ، بنگلہ دیشی کی قیادت کے ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان کر رہے تھے ان کے ہمراہ ہیڈ آف چانسلری عشرت جہاں بھی موجود تھیں۔

اس موقع پر پرنسپل ڈائوانٹرنیشنل میڈیکل کالج پروفیسر عظمی بخاری ،وائس پرنسپل ڈی آئی ایم سی ڈاکٹر رملہ ناز ,اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈائو یونیورسٹی اسپتال ڈاکٹر خورشید احمد سموں بھی موجود تھے۔وفد نے اوجھا کیمپس اور ڈاکٹر عشرت العباد خان انسٹیٹیوٹ آف اورل ہیلتھ سائنسز (DIKIOHS) کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہیں جامعہ کے مربوط طبی و تعلیمی نظام سے آگاہ کیا گیا۔

(جاری ہے)

اوجھا کیمپس میں وفد کو کینسر کے جدید علاج کی سہولیات کا معائنے کے دوران ہیپاٹولوجی، لیور ٹرانسپلانٹ، نیفرولوجی، رینل ٹرانسپلانٹ اور بون میرو ٹرانسپلانٹ سمیت مختلف شعبہ جات کی سہولیات پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ڈائوکمپری ہینسو کینسر سینٹر میں میڈیکل آنکولوجی، ریڈی ایشن آنکولوجی، گاما نائف ریڈیو سرجری اور نیوکلیئر میڈیسن و تھیرانوسٹکس کے شعبوں کا خصوصی دورہ بھی کرایا گیا۔

وفد کو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی علاج کے نظام سے آگاہ کیا گیا، جن میں پی ای ٹی-سی ٹی امیجنگ اور ایم آر-لیناک کے ذریعے ایڈاپٹو ریڈیو تھراپی شامل ہیں، جو جدید اور درست کینسر علاج کی عکاسی کرتے ہیں۔وفد نے تعلیمی و تحقیقی شعبے میں پیش رفت کے جائزے کیلیے ڈائو انٹرنیشنل میڈیکل کالج کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگرامز اور تحقیقی سرگرمیوں سے متعلق آگاہ کیا گیا۔

اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی روابط کو مزید فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ڈینٹل تعلیم اور کلینیکل تربیت کا اعلی معیار کے حوالے سے ڈاکٹر عشرت العباد خان انسٹیٹیوٹ آف اورل ہیلتھ سائنسز کا دورہ کرایا گیا جہاں پرنسپل ڈاکٹر انور علی اور وائس پرنسپل ڈاکٹر خرم پرویز بھی موجود تھے۔ وفد نے اورل اینڈ میکسیلوفیشل سرجری، آرتھوڈونٹکس، پروستھوڈونٹکس اور اینڈوڈونٹکس سمیت مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا۔

اس موقع پر جدید لیبارٹریز، اورل بائیولوجی اور فینٹم لیبز کا بھی دورہ کرایا گیا، جہاں طلبہ کو ماہر اساتذہ کی نگرانی میں عملی تربیت دی جاتی ہے۔دورے کے دوران پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان طبی و تعلیمی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اہم نکات میں فیکلٹی اور طلبہ کے تبادلے، مشترکہ تحقیق، جدید آنکولوجی میں نالج ٹرانسفر اور استعداد کار بڑھانے کے اقدامات شامل تھے۔

خصوصی طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کے لیے وسائل کے مطابق پائیدار کینسر علاج کے ماڈلز تیار کیے جائیں۔دورہ اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ دونوں ممالک کے ادارے مستقبل میں قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔ وائس چانسلر نازلی حسین کی قیادت میں ڈائو یونیورسٹی نے خطے میں طبی تعلیم اور جدید علاج کے فروغ کے لیے اپنے کردار کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا یادرہے کہ رواں سال جنوری کے آخری ہفتے میں بھی بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر اقبال حسین خان نے ڈائو یونیورسٹی کا دورہ کیا تھا اور پروفیسر نازلی حسین سے ملاقات میں ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے تحت بنگلہ دیشی طلبا کے لیے علامہ اقبال اسکالر شپ سمیت دیگر امور پربات چیت آگے بڑھائی تھی ۔