زرعی ادویات ،کھادوں کے بیجا استعمال بارے کئی ممالک نئی پالیسیاں تشکیل دے رہے ہیں، نجم مزاری

ہفتہ 11 اپریل 2026 19:38

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 11 اپریل2026ء) آرگینک خوراک اور مصنوعات پر ریسرچ کرنے والے ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے کہا ہے کہ زرعی اجناس پر کیڑے مار ادویات اور کھادوں کے بے جا استعمال کے انسانی صحت، ماحول اور خوراک کے معیار پر سنگین اثرات سامنے آ نے کے بعد کئی ممالک اس حوالے سے نئی پالیسیاں تشکیل دے رہے ہیں،کیڑے مار ادویات کا غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال نہ صرف زمین اور پانی کو آلودہ کرتا ہے بلکہ یہ حیاتیاتی تنوع کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے، زرعی ادویات کا غیر ضروری استعمال مٹی، پانی اور ہوا میں شامل ہو کر مفید کیڑوں اور جانداروں کے لئے نقصان کا باعث بن رہا ہے جس سے قدرتی نظام متاثر ہوتا ہے اور خوراک کی غذائیت بھی کم ہو سکتی ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ زرعی زہروں کے اثرات انسانی صحت پر بھی مرتب ہوتے ہیں جن میں جلدی بیماریاں، سانس کے مسائل حتی کہ کینسر اور اعصابی بیماریاں بھی شامل ہیں جبکہ خوراک میں باقی رہ جانے والے کیمیائی اجزا ء بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

کھادوں کے غیر متوازن استعمال سے زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے، مٹی کی قدرتی ساخت بگڑتی ہے اور پانی کی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے جس سے زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی نظام بھی غیر مستحکم ہو جاتا ہے۔

نجم مزاری نے کہا کہ عالمی سطح پر صورتحال کے پیش نظر کئی ممالک اور ادارے پالیسی اقدامات کر رہے ہیں،فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے تعاون سے ازبکستان سمیت مختلف ممالک میں خطرناک کیڑے مار ادویات کے خاتمے اور متبادل طریقوں کو فروغ دینے کے پروگرام شروع کیے گئے ہیں جن کا مقصد زرعی پیداوار کو محفوظ بناتے ہوئے کیمیکلز پر انحصار کم کرنا ہے۔

عالمی سطح پر پالیسی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعدد ممالک زرعی نظام کو پائیدار بنانے، پانی اور زمین کے تحفظ اور کیمیائی استعمال میں کمی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں جبکہ 160 سے زائد ممالک میں زرعی اصلاحات سے متعلق پالیسی فیصلے کیے جا چکے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ وزیر صحت پنجاب نے بھی اپنی ایک حالیہ میٹنگ میں کیڑے مار ادویات اور کھادوں کے استعمال کے توازن کے ساتھ استعمال کی بات کی ہے جو انتہائی خوش آئند ہے ۔

متعلقہ عنوان :