پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، شزہ فاطمہ خواجہ

جمعرات 14 مئی 2026 17:42

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، شزہ فاطمہ خواجہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 مئی2026ء) وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہاہے کہ حکومت کی سرپرستی میں کی جانے والی اصلاحات، ڈیجیٹل سکلز پروگراموں اور پالیسی سپورٹ کی بدولت پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو ملک کے ٹیکنالوجی شعبہ کو مضبوط بنانے کے لیے اہم ہے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران مختلف ارکان کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات سالانہ تقریباً 20 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہیں۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالتے وقت آئی ٹی برآمدات تقریباً 2.4 ارب ڈالر تھیں اور موجودہ مالی سال میں یہ برآمدات 4.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر جانے کی توقع ہے۔

(جاری ہے)

شزہ فاطمہ نے اس ترقی کا سہرا وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کو دیتے ہوئے کہا کہ اس حکومت نے آئی ٹی سکیٹرکو ترجیح دی اور پالیسی مراعات کے ذریعے برآمد کنندگان کی سہولت فراہم کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر واحد برآمد پر مبنی انڈسٹری ہے جو فائنل ٹیکس رجیم کے تحت کام کر رہا ہے۔پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) کے ساتھ رجسٹرڈ کمپنیوں پر برآمدات پر صرف 0.5 فیصد ٹیکس لگتا ہے جبکہ غیر رجسٹرڈ ادارے ایک فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سالانہ 500,000 سے زائد نوجوانوں کو ڈیجیٹل اور ہائی ٹیک سکلز کی تربیت دے رہی ہے اور ملک کی بڑھتی ہوئی انسانی وسائل کی صلاحیت آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی کلیدی وجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ تربیتی پروگراموں میں بھی اصلاحات کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تربیتی اقدامات کے لیے انٹرنیشنل سرٹیفیکیشنز اور تھرڈ پارٹی ایویلیویشنز کو لازمی قرار دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں بہتر نتائج سامنے آ رہے ہیں، ایڈوانسڈ ٹریننگ پروگراموں کی تھرڈ پارٹی ایویلیویشن سے پتہ چلا ہے کہ ان کی مناسبت سے حصول روزگار کی اہلیت کی شرح 82 فیصد ہے جو انہوں نے بین الاقوامی معیار سے زیادہ قرار دیا۔

آئی ٹی انڈسٹری کے لیے سہولیات کے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے پی ایس ای بی کے ذریعے 24/7 فیسیلیٹیشن سینٹر قائم کیا ہے اور کاروباری رجسٹریشن کے طریقہ کار کو آسان بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ای بی رجسٹریشن کے لیے درکار وقت 90 دن سے کم کر کے صرف نو منٹ کر دیا گیا ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ آئی ٹی کمپنیوں کو سپیشل فارن کرنسی اکائونٹس میں 50 فیصد ڈالر ریٹینشن کی اجازت دی گئی ہے جبکہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے فارم ای سے متعلق متعدد ریگولیٹری رکاوٹوں کو ختم کر دیا ہے۔

شزہ فاطمہ نے کہا کہ وزیر اعظم کے ہدایات پر کمپنیوں کو روشن ڈیجیٹل اکائونٹس کے ذریعے سرمایہ کاری کرنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو سالوں میں 250 سے زائد آئی ٹی کمپنیوں نے بین الاقوامی روڈ شوز میں حصہ لیا جبکہ ملک بھر میں 10 سپیشل ٹیکنالوجی پارکس اور 50 ای روزگار سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں خواتین کے لیے مخصوص ٹیکنالوجی پارکس بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ ڈیجیٹل معیشت میں خواتین کی شرکت کو فروغ دیا جا سکے۔

انٹرنیٹ سروسز سے متعلق تکمیلی سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ حالیہ برسوں میں تین سب میرین کیبلز کے لینڈنگ سے پاکستان کی انٹرنیشنل کنیکٹیویٹی بہتر ہوئی ہے۔فائبر آپٹک کنیکٹیویٹی ملک بھر میں نمایاں طور پر پھیل گئی ہے اور فائبر پر مبنی گھریلو کنکشنز 2024ء میں 1.9 ملین سے بڑھ کر دو سالوں میں 5.1 ملین ہو گئے ہیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نیشنل فائبرائزیشن پالیسی پر عملدرآمد کر رہی ہے اور براڈ بینڈ انفراسٹرکچر کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے رائٹ آف وے چارجز ختم کر دیئے گئے ہیں۔

انہوں نے ایوان کو مزید بتایا کہ فائیو جی سروسز رول آئوٹ کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور اسلام آباد کے بڑے علاقوں میں پائلٹ سروسز دستیاب ہیں۔شزہ فاطمہ نے کہا کہ ڈیجیٹل ڈیوائیڈ کو کم کرنے کے لیے شہری اور دیہی علاقوں کے لیے الگ الگ انٹرنیٹ کوالٹی مانیٹرنگ سسٹمز بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے آئی ٹی برآمدات میں 15 ارب ڈالر اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے ذریعے اضافی 10 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکٹر کی سالانہ شرح نمو کو 20 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کی تیز رفتار ترقی اور نیشنل اے آئی پالیسی کا نفاذ شامل ہے۔