اسلام آباد ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی سے فیملی اور ذاتی معالج کی ملاقات کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

جمعرات 14 مئی 2026 19:03

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی سے فیملی اور ذاتی معالج کی ملاقات ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 14 مئی2026ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی سے فیملی اور ذاتی معالج کی ملاقات کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جبکہ۔ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھا دیا، ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ قیدی کو سہولیات دینا جیل سپرنٹنڈنٹ کا صوابدیدی اختیار ہے۔انھوں نے یہ دلائل جمعرات کے روزدیے ہیں۔

اسلام آبادہائیکورٹ میں بشریٰ بی بی سے فیملی، ذاتی معالج کی رسائی اور ضروری سامان فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ 7اپریل کو ملاقات کرائی گئی یہ وہ صورتحال ہے جس دن ان کا آپریشن کیا جاتا ہے،یہ ایک ایمرجنسی میٹنگ تھی جو چند منٹ کیلئے کروائی گئی،آخری ہفتہ وار ملاقات24فروری 2026کو کروائی گئی،24فروری کے بعد7ہفتوں میں کوئی ملاقات نہیں کروائی گئی،صرف ایمرجنسی ملاقاتیں کروائی گئی ہیں،بشریٰ بی بی بیمار ہیں ان کی سرجری ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھا دیا، ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ قیدی کو سہولیات دینا جیل سپرنٹنڈنٹ کا صوابدیدی اختیار ہے،قیدی کیلئے شرط ہے کہ اچھا رویہ رکھے،خلاف ورزی پر جیل سپرنٹنڈنٹ کارروائی کر سکتا ہے،ملک میں تمام امور قانون کے مطابق چل رہے ہیں،جیل سپرنٹنڈنٹ کی اجازت کے بغیر کوئی ملاقات نہیں ہوسکتی۔عدالت نے دلائل کے بعدفیصلہ محفوظ کرلیا۔