دینی مدارس اسلام کی بقا اور اشاعت کا اہم ذریعہ ہیں،صاحبزادہ زبیرہزاروی

بدھ 15 اپریل 2026 18:08

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 اپریل2026ء) دارالعلوم غوثیہ مین یونیورسٹی روڈ گلشن اقبال کراچی میں افتتاح بخاری شریف اور درسِ حدیث کی ایک نہایت پُروقار اور روحانی تقریب منعقد ہوئی، جس میں علمائے کرام، طلبہ، اساتذہ اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر شیخ الحدیث علامہ مفتی احمداللہ قادری نے بخاری شریف کا درس دیا اور حدیث مبارکہ کی عظمت، اس کے فقہی، اخلاقی اور روحانی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ علمِ حدیث سے وابستگی انسان کے ایمان، کردار اور عمل کو مضبوط بناتی ہے اور یہی دین کی اصل روح ہے۔یہ تقریب مہتمم جامعہ علامہ صاحبزادہ محمد زبیر صدیقی ہزاروی کی زیر سرپرستی منعقد کی گئی۔اپنے خطاب میں علامہ صاحبزادہ محمد زبیر صدیقی ہزاروی نے کہا کہ دینی مدارس اسلام کی اشاعت، تحفظِ عقیدہ اور امت مسلمہ کی فکری رہنمائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مدارس نے ہمیں وہ عظیم شخصیات عطا کیں جنہوں نے تاریخ میں علم و عرفان کے چراغ روشن کیے، جن میں امام اعظم ابوحنیفہؒ، امام ربانی مجدد الف ثانیؒ، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانؒ اور قائدِ اہلِ سنت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقیؒ سمیت بے شمار جید علماء شامل ہیں، جنہوں نے دینِ اسلام کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔انہوں نے کہا کہ انہی مدارس کی بدولت آج اسلام کی روشنی شرق سے غرب اور شمال سے جنوب تک پھیلی ہوئی ہے اور دنیا بھر میں‘‘اسلام زندہ باد’’کے نعرے گونج رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک مسلمانوں نے تعلیم مدارس سے حاصل کی، اسلام مسلسل ترقی کرتا رہا اور جب سے بعض معاشروں میں مخلوط تعلیمی نظام اور دین سے دوری پر مبنی طرزِ تعلیم متعارف ہوا، اس کے اثرات معاشرتی بگاڑ کی صورت میں سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ آج مغربی و یورپی طاقتیں مختلف تعلیمی و فکری ذرائع سے اسلامی تہذیب و اقدار کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، نصابِ تعلیم سے اسلامی تاریخ اور دینی اقدار کو نکالنے اور نئی نسل کو مغربی تہذیب کا تابع بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

علامہ صاحبزادہ محمد زبیر صدیقی ہزاروی نے کہا کہ مدارس اسلام کے قلعے ہیں اور اگر مدارس زندہ ہیں تو اسلام زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی جب انگریزوں کے خلاف 1857 کی تحریکِ آزادی میں علمائے کرام نے جہاد کا فتویٰ دیا تو اس کی پاداش میں سینکڑوں علماء کو پھانسی دی گئی، لیکن وہ اپنے مؤقف اور تحریک سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آج بھی اسی جذبے، غیرتِ ایمانی اور دینی حمیت کی ضرورت ہے۔

علماء کرام کو چاہیے کہ وہ حق بات کہنے میں کسی دباؤ کو قبول نہ کریں اور حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بلند کریں، کیونکہ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور اس میں اسلامی روایات اور دینی اقدار کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔دیگر علمائے کرام نے بھی اپنے خطابات میں دینی مدارس کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہ ادارے امت مسلمہ کے ایمان، اتحاد اور اخلاقی تربیت کا مضبوط ذریعہ ہیں۔آخر میں ملک و ملت کی سلامتی، امت مسلمہ کے اتحاد، فلسطین و دیگر مظلوم مسلمانوں کی نصرت اور دینی مدارس کے استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔