جیکب آباد محکمہ تعلیم میں جعلی بھرتیوں کا بڑا اسکینڈل

5 سے زائد این سی ایچ ڈی اساتذہ بے نقاب،ڈی او پرائمری ایجوکیشن خدا بخش دایو کا سخت ایکشن؛ 79 این سی ایچ ڈی اساتذہ کی دستاویزات طلب

جمعرات 23 اپریل 2026 22:21

جیکب آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 اپریل2026ء) جیکب آباد محکمہ تعلیم میں جعلی بھرتیوں کا بڑا اسکینڈل: 5 سے زائد این سی ایچ ڈی اساتذہ بے نقاب،ڈی او پرائمری ایجوکیشن خدا بخش دایو کا سخت ایکشن؛ 79 این سی ایچ ڈی اساتذہ کی دستاویزات طلب، تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے محکمہ تعلیم میں کرپشن اور میرٹ کی پامالی کا ایک اور سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں این سی ایچ ڈی (NCHD) پروگرام کے تحت ہونے والی بھرتیوں میں 5 سے زائد اساتذہ کے "جعلی" ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

محکمہ تعلیم نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے،ڈی او پرائمری ایجوکیشن جیکب آباد، خدا بخش دایو نے جعلی بھرتیوں کے انکشاف کے بعد فوری ایکشن لیتے ہوئے این سی ایچ ڈی کے 79 اساتذہ کو اپنی تعلیمی اور تقرری کی تمام دستاویزات متعلقہ دفتر میں جمع کرانے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے ڈی او پرائمری خدا بخش دایو نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ: "دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ جیسے ہی تمام ریکارڈ کی چھان بین مکمل ہوگی، جعلی بھرتیوں کا معاملہ مکمل طور پر واضح ہو جائے گا۔" انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ تعلیم میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی اور میرٹ پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کو ہی کام کرنے کا حق ہوگا۔

محکمہ تعلیم جیکب آباد نے شفافیت کو یقینی بنانے اور مستقبل میں جعلی بھرتیوں کے تمام راستے بند کرنے کے لیے ایک اہم انتظامی فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، جانچ پڑتال کے عمل کے بعد این سی ایچ ڈی کے تمام جائز (حقیقی) اساتذہ کی آئی ڈیز اب ضلعی خزانہ آفس میں کھولی جائیں گی۔اس اقدام کا بنیادی مقصد تنخواہوں کی ادائیگی کے عمل کو ڈیجیٹل اور شفاف بنانا ہے تاکہ کوئی بھی شخص غیر قانونی طریقے سے قومی خزانے سے تنخواہ وصول نہ کر سکے، اور سسٹم کو مانیٹرنگ کے تحت لایا جا سکے۔