آرٹیکل 200 کے تحت ججز تبادلے کا نیا نظام فعال، جوڈیشل کمیشن اجلاس نئے نظام کے عملی نفاذ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا،حافظ احسان کھوکھر

اتوار 26 اپریل 2026 16:22

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 اپریل2026ء) پاکستان میں ہائی کورٹس کے ججوں کے تبادلوں سے متعلق آئینی طریقہ کار کو ازسرِ نو منظم کر دیا گیا ہے، جس کے تحت آئین کے آرٹیکل 200 اور آرٹیکل 175A کو باہم ملا کر ایک جامع اور ادارہ جاتی نظام تشکیل دیا گیا ہے۔ قانونی ماہر حافظ احسان احمد کھوکھر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے مطابق آئین (ستائیسویں ترمیم) ایکٹ 2025 کے بعد اس نظام میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں، جن کے تحت ججوں کے تبادلوں کا اختیار اب جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارش سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ترمیم شدہ آئینی فریم ورک کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا پہلا اجلاس 28 اپریل 2026 کو طلب کیا گیا ہے، جو نئے نظام کے عملی نفاذ میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

(جاری ہے)

ماہر قانون کے مطابق آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت صدرِ پاکستان کو ہائی کورٹ کے جج کو ایک عدالت سے دوسری عدالت منتقل کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم یہ اختیار اب انفرادی صوابدید کے بجائے ایک باقاعدہ ادارہ جاتی عمل کے تابع ہے، جس کے لیے جوڈیشل کمیشن کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ماضی میں جج کی رضامندی تبادلے کے لیے ضروری ہوتی تھی، تاہم نئی آئینی ترمیم کے بعد اس شرط کو ختم کر دیا گیا ہے اور فیصلہ سازی کا اختیار مکمل طور پر جوڈیشل کمیشن کو دے دیا گیا ہے۔ تاہم کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مناسب سمجھے تو متعلقہ جج کو مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔حافظ احسان احمد کھوکھر کے مطابق جوڈیشل کمیشن کی موجودہ تشکیل ایک وسیع البنیاد آئینی ڈھانچے کی عکاسی کرتی ہے، جس میں عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ اور قانونی برادری کے نمائندگان شامل ہیں، جبکہ فیصلے اکثریت کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب جوڈیشل کمیشن کسی جج کے تبادلے کی منظوری دے دیتا ہے تو اس کی سفارش صدرِ پاکستان کو بھجوائی جاتی ہے، جس کے بعد صدارتی حکم جاری ہونے پر تبادلہ فوری طور پر مؤثر ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں متعلقہ جج پر لازم ہوتا ہے کہ وہ نئی ہائی کورٹ میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی جج بلا جواز تبادلے کے حکم پر عملدرآمد سے گریز کرے تو یہ عمل آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت مس کنڈکٹ کے زمرے میں آ سکتا ہے، جس پر سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی کی مجاز ہے۔

ماہر قانون کے مطابق جج کے تبادلے سے اس کی سینیارٹی، مدتِ ملازمت یا عدالتی آزادی متاثر نہیں ہوتی بلکہ یہ صرف تعیناتی کی جگہ میں تبدیلی ہوتی ہے۔انہوں نے تقابلی آئینی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں بھی اسی نوعیت کا نظام موجود ہے جہاں آئین کے آرٹیکل 222 کے تحت ججوں کے تبادلے عمل میں لائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئی آئینی اصلاحات کے بعد عدالتی تبادلوں کا نظام مزید شفاف، منظم اور ادارہ جاتی ہو گیا ہے، اور 28 اپریل کو ہونے والا اجلاس اس نئے نظام کے عملی آغاز کی بنیاد رکھے گا۔