ناسا خلانوردوں کا انسانیت کے مشترکہ اقدار کی اہمیت پر زور

یو این اتوار 3 مئی 2026 04:15

ناسا خلانوردوں کا انسانیت کے مشترکہ اقدار کی اہمیت پر زور

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 03 مئی 2026ء) چاند کے گرد تاریخی پرواز مکمل کرنے کے ایک ماہ بعدامریکی خلائی تحقیقی ادارے (ناسا) کے مشن آرٹیمس 2کے خلا بازوں کی اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں آمد دنیا کے لیے یہ پیغام تھی کہ جب انسانیت متحد ہو کر کام کرتی ہے تو غیر معمولی کارنامے سرانجام دے سکتی ہے۔

گزشتہ روز خلابازوں کا یہ دورہ ایک پرانی روایت کا تسلسل تھا۔

اس سے پہلے بھی خلاباز امن، بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ عالمی مستقبل پر گفتگو کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں آتے رہے ہیں۔

آرٹیمس کے چار رکنی عملے نے تاریخ میں اب تک کے دور دراز فاصلے پر انسانی خلائی پرواز انجام دی۔ یہ لوگ چاند کے دوسرے رخ سے بھی آگے تک گئے اور خلا میں 10 مشکل، محنت طلب اور حوصلہ افزا ایام گزارنے کے بعد بحفاظت زمین پر واپس لوٹے۔

(جاری ہے)

اس مختصر عرصہ میں انہوں نے اربوں لوگوں کے تخیل کو تحریک دی اور خلائی تحقیق میں انسانیت کی مشترکہ شرکت کے احساس کو دوبارہ زندہ کر دیا۔

UN Photo/YN خلا میں جانے والے پہلے مرد اور عورت سوویت خلاباز یوری گیگرین (دائیں) اور ویلنٹینا تیریشکوا (بائیں) نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں اس وقت کے سیکرٹری جنرل یو تھینٹ (درمیان) کے ساتھ کھڑے ہیں۔

دیرینہ روایت کا تسلسل

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی عمارت دہائیوں سے خلابازوں کا خیرمقدم کرتی رہی ہے جس کی ابتدا سوویت خلا باز یوری گاگارین اور ویلینٹینا تیریشکووا سے ہوئی جو خلا میں جانے والے پہلے مرد اور خاتون تھے۔ اکتوبر 1963 میں ان کا یہ دورہ نہ صرف سائنسی و تکنیکی ترقی کی علامت تھا بلکہ اس خیال کی بھی عکاسی کرتا تھا کہ خلا ایک ایسا میدان ہے جہاں انسانیت متحد ہو سکتی ہے۔

اس کے بعد مختلف ممالک کے خلائی نمائندے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر عالمی برادری سے خطاب میں اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ خلائی تحقیق تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کے بغیر ممکن نہیں۔

آرٹیمس 2 کے خلابازوں نے بھیاسی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ یہ مشن محض سائنسی پیش رفت نہیں بلکہ بین الاقوامی شراکت کی مثال بھی ہے جس میں یورپی خلائی ایجنسی سمیت متعدد ممالک اور ادارے شامل ہیں۔

آرٹیمس کے خلابازوں کے ساتھ نشست کی میزبانی اقوام متحدہ میں امریکہ کے مستقل سفیر مائیک والز نے کی۔ اس موقع پر خلابازوں کا کہنا تھا کہ ان کا مشن صرف خلائی جہاز کی آزمائش نہیں بلکہ زمین پر بسنے والوں کو یہ یاد دلانا بھی تھا کہ مل کر کام کیا جائے تو انسان بڑے کارنامے انجام دے سکتا ہے۔

خلا بسیط سے زمین کا منظر

خلابازوں نے بتایا کہ ان کے لیے خلا کی وسعتوں سے زمین کو دیکھنا منفرد تجربہ تھا۔

لاکھوں میل دور سے زمین ایک چھوٹے، نازک اور تقریباً بے وزن نقطے جیسی نظر آتی ہے جس سے اس کی انفرادیت اور زندگی کی نایابی کا احساس ہوتا ہے۔

آرٹیمس جہاز کے پائلٹ وکٹر گلوور نے کہا کہ اس سفر میں انہیں بار بار یہ احساس ہوتا تھا کہ اس منظر کو دیکھنے پر انہیں شکر گزار ہونا چاہیے اور اس دنیا کے لیے بھی جس کی طرف وہ واپس جا رہے تھے۔

خلا باز کرسٹینا کوچ نے کائنات کی وسعت میں انسانیت کے مقام سے متعلق اپنے احساس کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایسے موقع پر اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ بھی قطعی یا یقینی نہیں۔

یہ ہمارا ہی جہان ہے اور یہ انسان کا انتخاب ہے کہ وہ اپنی زمین کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔

© NASA چاند کی طرف محو سفر ’ناسا‘ کے مشن آرٹیمس II کے خلانورد۔

خلائی جہاز میں زندگی

کینیڈا سے تعلق رکھنے والے خلاباز جیریمی ہینسن نے بتایا کہ خلائی جہاز کے اندر زندگی نہایت مشکل تھی۔ عملے کو تجربات، رہنمائی اور سائنسی نظام کی نگرانی کے علاوہ انتہائی معمولی کشش ثقل کے ساتھ مسلسل ہم آہنگی برقرار رکھنا پڑتی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ایک روز انہوں نے بیریاں کھانے کے لیے پیکٹ کھولا تو وہ تیزی سے پھٹ گیا اور بیری کے دانے پورے جہاز میں پھیل گئے۔

اس موقع پر دوسرے خلاباز وکٹر ان کے قریب ہی جہاز میں تیر رہے تھے۔ یہ دانے ان کی قمیض سے بھی جا ٹکرائے جنہوں نے کہا کہ 'فکر نہ کرو، میں سنبھال لیتا ہوں' اور پھر چمچ کے ذریعے انہیں قمیض سے اٹھا کر کھانا شروع کر دیا۔

چاند پر واپسی کی تیاری

آرٹیمس 2 ایک بڑے منصوبے کا آغاز ہے جس کا مقصد انسان کو دوبارہ چاند پر بھیجنا، وہاں مستقل موجودگی قائم کرنا اور بنیادی ڈھانچہ، جیسا کہ قمری اڈہ تیار کرنا ہے تاکہ طویل مدتی خلائی تحقیق ممکن ہو سکے۔

یہ منصوبہ آرٹیمس معاہدوں پر مبنی ہے جو بین الاقوامی اصولوں کا مجموعہ ہیں اور جن کی توثیق درجنوں ممالک کر چکے ہیں۔

ان خلابازوں نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے خطاب کرتے ہوئے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ سوال پوچھنے سے نہ گھبرائیں اور جوابات کو غور سے سنیں۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیمس کی کامیابی کو صرف فاصلے یا ٹیکنالوجی سے نہیں ماپا جا سکتا۔ خلا ایک ایسا زاویہ نظر دیتا ہے جس سے زمین کو اس کی اصل صورت میں دیکھا جا سکتا ہے جو کہ منفرد، مشترکہ اور دیکھ بھال کی محتاج ہونے کے ساتھ انسانوں کو جوڑنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔