تنازعات میں صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، یو این

یو این ہفتہ 2 مئی 2026 21:30

تنازعات میں صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، یو این

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 02 مئی 2026ء) آزادی صحافت کو معاشی دباؤ، نئی ٹیکنالوجی اور منظم سازباز کے باعث غیر معمولی مسائل کا سامنا ہے۔ حالیہ برسوں میں دوران جنگ صحافیوں کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جنہیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے 3 مئی کو منائے جانے والے آزادی صحافت کے عالمی دن سے قبل اپنے پیغام میں کہا ہے کہ صحافی سنگین خطرات مول لے کر سچائی سامنے لاتے ہیں جنہیں ہر طرح کے حالات میں تحفظ ملنا چاہیے۔

کہا جاتا ہے کہ جنگ میں سب سے پہلے سچائی قربان ہوتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثر وہ صحافی سب سے پہلے نشانہ بنتے ہیں جو اس سچ کو سامنے لانے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے اپنے پیغام میں اسی بات کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح تنازعات کی رپورٹنگ سب سے زیادہ پرخطر ثابت ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

آج صحافیوں کو بم دھماکوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، دفاتر سے اغوا کیا جا رہا ہے، جیلوں میں ڈال کر خاموش کرا دیا جاتا ہے اور ان کا روزگار چھین لیا جاتا ہے۔

رواں سال جنوری سے اب تک کم از کم 14 صحافی قتل ہو چکے ہیں اور گزشتہ دو دہائیوں میں ہونے والے ایسے صرف تقریباً 10 فیصد واقعات میں ہی انصاف فراہم ہو سکا ہے۔

© UNESCO/Bahare Khodabande ہیٹی میں صحافی گینگ وار کی کوریج کر رہے ہیں۔

صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث رواں سال لبنان صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک بن گیا ہے جبکہ عملاً کوئی ایسا ملک نہیں جہاں صحافی مکمل طور پر محفوظ ہوں۔ جب ذرائع ابلاغ پر حملے معمول بن جائیں تو آزادی زوال کا شکار ہونے لگتی ہے اور اس کے ساتھ امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کی بنیادیں بھی کمزور پڑ جاتی ہیں۔

انہوں نے دنیا بھر کے ان رپورٹروں اور فوٹوگرافروں کو خراج تحسین پیش کیا ہے جو ہولناک مظالم کو بے نقاب کرتے ہیں، بدعنوانی کا پردہ چاک کرتے ہیں اور کاروباری سرگرمیوں کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہیں۔

غزہ میں موت کا جال

وولکر ترک نے کہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ صحافیوں کے لیے موت کا جال بن چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے اکتوبر 2023 سے اب تک علاقے میں تقریباً 300 صحافیوں کو ہلاک کیے جانے کی تصدیق کی ہے جبکہ سیکڑوں زخمی بھی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیشتر جنگوں کی کوریج صرف مقامی صحافی کر رہے ہیں۔ سوڈان اس کی نمایاں مثال ہے جہاں صحافی شدید تشدد، بربریت حتیٰ کہ قحط جیسے حالات کا سامنا کرنے کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

UN News غزہ میں اسرائیل کی جنگ صحافیوں کے لیے موت کا جال بن چکی ہے۔

'کوئی ملک محفوظ نہیں'

وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ سچائی بیان کرنے والوں کے لیے تقریباً کوئی بھی ملک مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا۔ انہوں نےمیکسیکو کے اپنے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بدعنوانی، ماحولیاتی نقصان یا منظم جرائم پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں، ان کے ذرائع حتیٰ کہ ان کے خاندانوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔

دنیا بھر میں صحافت سے وابستہ کارکن سرحد پار جبر اور نگرانی کا بنیادی نشانہ بھی بن رہے ہیں۔ حالیہ دنوں بیرون ملک ایرانی صحافیوں کے خلاف حملے اس کی نمایاں مثال ہیں۔

آن لائن ہراسانی

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ صحافیوں کے خلاف ہتک عزت، غلط اطلاعات، سائبر کرائم اور دہشت گردی سے متعلق قوانین کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور مہنگے مقدمات کے ذریعے صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں تقریباً 330 صحافتی کارکن قید ہیں جبکہ 500 شہری صحافی اور انسانی حقوق کا دفاع کرنےوالے بلاگر بھی زیرحراست ہیں۔

انہوں نے آن لائن ہراسانی اور بدسلوکی پر بھی تشویش ظاہر کی، جو خاص طور پر خواتین صحافیوں کو متاثر کرتی ہے اور جن میں سے تین چوتھائی کو بدسلوکی، بہتان تراشی اور جنسی تشدد کی دھمکیوں جیسے حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ یہ حملے ایسے معاشرے کو جنم دے سکتے ہیں جہاں غلط معلومات کا غلبہ ہو اور ذرائع ابلاغ کو محفوظ رہنے کے لیے حقائق کو چھپانا اور سائنس سے انکار کرنا پڑے۔

© UNFCCC/Kiara Worth مشکلات کے باوجود صحافی سخت ترین حالات میں بھی رپورٹنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آزادی صحافت پر جبر

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ صحافت کے خلاف معاشی دباؤ بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے جس کے باعث تقریباً ایک تہائی ممالک میں وسائل کی کمی اور صحافتی اداروں کے ارتکاز سے مقامی خبر رساں ادارے بند ہو رہے ہیں۔

ان تمام مشکلات کے باوجود صحافی سخت ترین حالات میں بھی رپورٹنگ جاری رکھے ہوئے ہیں حتیٰ کہ وہ ہسپتال کے بستروں اور وہیل چیئرز پر بیٹھ کر بھی رپورٹنگ کر رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ سچ کے لیے جدوجہد ضروری ہے۔

وولکر ترک نے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافت کے خلاف جبر ختم کریں، غیر ضروری پابندیاں اٹھائیں، ظالمانہ قوانین کا خاتمہ کریں اور اپنے قانونی نظام کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات سے ہم آہنگ کریں۔

انہوں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ کے کارکنوں پر حملے روکیں، انہیں نگرانی سے بچائیں ان کے حقوق کی خلاف ورزی کی تحقیقات کریں اور انصاف کو یقینی بنائیں۔ ہائی کمشنر نے ٹیکنالوجی کمپنیوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ آن لائن بدسلوکی اور غلط معلومات کے خلاف موثر اقدامات کریں۔