نئی نسل کو بھی سرد جنگ کے ایٹمی تباہی کے خوف کا سامنا
یو این
ہفتہ 2 مئی 2026
21:30
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 02 مئی 2026ء) جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے مکمل تباہی سرد جنگ کے کشیدہ عشروں میں پروان چڑھنے والی نسل کے لیے ایک مستقل اندیشہ تھا جو اب دوبارہ نوجوانوں کے لیے باعث تشویش بنتا جا رہا ہے۔
بیسویں صدی میں جوان ہونے والی کئی نسلوں کے لیے یہ سب سے بڑا خوف تھا کہ سوویت یونین اور امریکہ کے مابین کوئی ایسی جوہری جنگ نہ چھڑ جائے جو پوری تہذیب کا خاتمہ کر دے۔
اگرچہ آج کی نسل کے اذہان میں اس کی جگہ موسمیاتی بحران اور بے قابو مصنوعی ذہانت جیسے قدرے فوری نوعیت کے وجودی خدشات نے لے لی ہے لیکن جوہری تباہی کا خدشہ کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔جوہری عدم پھیلاؤ کے 56 سالہ معاہدے(این پی ٹی) کی موجودگی میں بھی یہ خدشہ برقرار رہا ہے حالانکہ کسی حد تک اسی معاہدے کی بدولت ہی 1945 کے بعد اب تک کسی جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں ہوئے۔
(جاری ہے)
حالیہ برسوں میں جوہری حملوں سے متعلق جارحانہ سیاسی بیانات دوبارہ سامنے آنے لگے ہیں جنہیں دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے نوجوانوں سے رابطہ بڑھایا ہے اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ یہ ہتھیار دوبارہ کبھی استعمال نہیں ہونے چاہئیں۔ پہلی اور آخری مرتبہ جوہری بم امریکہ نے 1945 میں دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگا ساکی پر گرائے تھے۔
تخفیف اسلحہ سے آگاہی
30 سالہ نیٹلی چن کہتی ہیں کہ سچ پوچھا جائے تو جوہری جنگ کا خدشہ کبھی ان کے لیے زیادہ اہم نہیں تھا اور ان کے ہم عمر افراد کا بھی یہی حال تھا، لیکن یوکرین، غزہ اور ایران جیسے تنازعات کے تناظر میں تخفیف اسلحہ ان کے لیے اہم معاملہ بن گیا ہے۔
ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی اور برطانیہ میں مقیم آرٹ پروڈیوسر نیٹلی چن اقوام متحدہ کے زیراہتمام جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے لیے نوجوان رہنماؤں کے فنڈ (وائی ایل ایف) کا حصہ ہیں جنہوں نے اس اقدام میں شمولیت کے بعد جوہری تخفیف اسلحہ کی پیچیدگیوں اور بنیادی اصولوں کو بہتر طور پر سمجھنا شروع کیا ہے اور یہ بھی جان گئی ہیں کہ جوہری ہتھیار عالمی امن کے لیے اس قدر بڑا خطرہ کیوں ہیں۔
انہوں نے نیویارک کے پوسٹر ہاؤس میوزیم میں منعقدہ پروگرام میں شرکت کی جس کا اہتمام جاپان کی حکومت نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے تخفیف اسلحہ (یو این او ڈی اے) کے تعاون سے کیا تھا۔ اس میں 'وائی ایل ایف' سے وابستہ افراد کے تیار کردہ فن پارے پیش کیے گئے۔ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو ایسا علم فراہم کرنا ہے جس سے وہ امن، سلامتی اور تخفیف اسلحہ کے لیے اپنی آواز کو زیادہ موثر بنا سکیں۔
'وائی ایل ایف' سے وابستہ عبدل مصطفیٰ زادہ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے عالمی مسائل کو زیادہ قابل فہم بنانے کا کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نوجوان اس سیاسی عمل کا حصہ بنیں تو یہ بہت موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ تخفیف اسلحہ کی زبان اکثر بہت تکنیکی ہوتی ہے لیکن انہوں نے آرٹ کے ذریعے اسے قابل فہم بنانے کا ہنر سیکھا ہے۔
'این پی ٹی' کی اہمیت
'یو این او ڈی اے' کی سربراہ ایزومی ناکامتسو کہتی ہیں، یہ نہایت ضروری ہے کہ نوجوانوں کو بتایا جائے کہ یہ مسئلہ کیوں اہم ہے اور ایسے نئے ماہرین کو سامنے لایا جائے جو جدید خطرات جیسا کہ مصنوعی ذہانت اور سائبر ہیکنگ کو دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔ یہ خطرے 'این پی ٹی' کے آغاز کے وقت موجود ہی نہیں تھے۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد تقریباً تین دہائیوں تک کوئی جوہری ہتھیاروں کے بارے میں زیادہ فکرمند نہیں تھا لیکن اب جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں واپس آ گئی ہیں۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ تخفیف اسلحہ کی برادری اب بھی ماضی کے اندازِ فکر میں الجھی رہتی ہے۔ لیکن اب ایٹمی کمانڈ اور کنٹرول میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت جیسے نئے مسائل سامنے آ چکے ہیں جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔
ناکامتسو تسلیم کرتی ہیں کہ 'این پی ٹی' کی زبان سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے لیکن نصف صدی پرانا یہ معاہدہ آج بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر یہ معاہدہ نہ ہوتا تو دنیا کہیں زیادہ غیر محفوظ ہوتی کیونکہ زیادہ سے زیادہ ممالک جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرتے جس سے ان کے استعمال کا امکان بھی بڑھ جاتا۔ معاہدے سے پہلے اندازہ تھا کہ 30 یا 40 ممالک جوہری طاقت بن جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا اور اس میں 'این پی ٹی' کا اہم کردار ہے۔
جوہری ہتھیار اور خطرناک بیانیہ
'وائی ایل ایف' ان طریقوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے اقوام متحدہ نوجوانوں کو پیچیدہ عسکری نظریات سمجھنے میں مدد دیتا ہے تاکہ وہ سنجیدہ مباحث میں حصہ لے سکیں اور ان کی بات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ علاوہ ازیں، یہ اس رجحان کے خلاف بھی ایک کوشش ہے جس میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو معمول کی بات بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور اس معاملے کو جاپان سے تعلق رکھنے والی ناکامتسو خاص طور پر تشویشناک سمجھتی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ہلکے جوہری ہتھیاروں کو میدان جنگ میں استعمال کرنے سے متعلق خطرناک بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ یہ بات درست نہیں کیونکہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے بم دور حاضر کے معیار کے مطابق 'ہلکے' ہی تھے جبکہ ان سے ہونے والی ہولناک تباہی سے دنیا بخوبی واقف ہے۔
مزید اہم خبریں
-
مطالبات میں نرمی، ایران نے جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کو نئی تجویز پیش کر دی
-
ایران جنگ سے خوراک، تیل اور امداد ضرورتمندوں کی پہنچ سے دور، یو این
-
تنازعات میں صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، یو این
-
میانمار: سزا میں تخفیف کے بعد آنگ سان سوکی جیل سے گھر منتقل
-
نئی نسل کو بھی سرد جنگ کے ایٹمی تباہی کے خوف کا سامنا
-
پی ایس ایل 2026 کا فائنل: حیدرآباد کنگز مین اور پشاور زلمی مقابلے کے لیے تیار
-
پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف بھی بھرپور آواز اٹھائیں گے
-
قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن قائم کرنے کی ضمانت دیتا ہوں
-
حکومت صرف 1 ماہ میں عوام کی جیبوں سے اضافی 180 ارب نکالنے کیلئے تیار
-
ذی الحجہ کا چاند کس دن باآسانی نظر آ جائےگا؟
-
ایران کے جدیدترین” عرش ٹو“ کاماکازی ڈرون کی تہران میں عوامی نمائش
-
ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو عربوں کے شاہی محلات محفوظ نہیں رہیں گے.تہران کی وارننگ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.