Live Updates

ایران جنگ سے خوراک، تیل اور امداد ضرورتمندوں کی پہنچ سے دور، یو این

یو این ہفتہ 2 مئی 2026 21:30

ایران جنگ سے خوراک، تیل اور امداد ضرورتمندوں کی پہنچ سے دور، یو این

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 02 مئی 2026ء) اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز بند ہونے کے نتیجے میں خوراک اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں دنیا بھر میں غریب لوگوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔

28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے اثرات خلیجی خطے کے کئی ممالک تک پھیل گئے ہیں۔

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے سے تیل، گیس، کھاد اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔ بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور اہم سامان کی ترسیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کی ترجمان نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس صورتحال نے پہلے ہی ہنگامی حالات میں زندگی گزارنے والے خاندانوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

(جاری ہے)

ان میں لاکھوں مہاجرین اور بے گھر لوگ بھی شامل ہیں جبکہ بحری راستوں میں رکاوٹوں سے امدادی اداروں کے لیے ضرورت مند لوگوں تک بروقت مدد پہنچانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

امداد کی ترسیل پر بڑھتے اخراجات

ترجمان کے مطابق، وہ امدادی سامان جو پہلے سمندری راستے سے بھیجا جاتا تھا اب اسے متبادل گزرگاہوں سے بھیجا جا رہا ہے جن میں زمینی راستے بھی شامل ہیں۔

تاہم اس سے ترسیل کا وقت اور لاگت دونوں بڑھ گئے ہیں۔

ان ممالک سے مال برداری کے اخراجات میں 18 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جہاں سے عموماً امدادی سامان حاصل کیا جاتا ہے۔ دبئی کے ایک گودام سے سوڈان اور چاڈ میں امدادی کارروائیوں کے لیے بھیجے جانے والے کچھ سامان کی ترسیل کی لاگت دوگنا سے بھی بڑھ گئی ہے۔

ترجمان نے خاص طور پر افریقہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے جہاں باہم پیوسط بحران عموماً افسوسناک حد تک نظر انداز ہو جاتے ہیں۔

'یو این ایچ سی آر' کا ا ایک عالمی امدادی ذخیرہ مرکز کینیا میں واقع ہے جہاں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کنٹینروں کے ذریعے امدادی سامان لے جانے والے ٹرکوں کی دستیابی کو متاثر کیا ہے۔ یہ ہنگامی امدادی سامان بعد ازاں ایتھوپیا، کانگو (ڈی آر سی) اور جنوبی سوڈان میں بھیجا جاتا ہے۔

غربت میں اضافے کا خدشہ

ترجمان نے بتایا ہے کہ امدادی سامان کی ترسیل میں تاخیر کے باعث شدید ضرورت مند افراد کو بروقت مدد نہیں مل رہی۔

ادارے نے دنیا بھر میں امدادی کارروائیوں کے لیے 8.5 ارب ڈالر کی اپیل کی تھی مگر اب تک صرف 23 فیصد وسائل ہی جمع ہو سکے ہیں۔

آبنائے ہرمز کے ذریعے کھاد کی آزادانہ نقل و حمل میں رکاوٹ کے باعث خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور مہنگائی میں تیزی آئی ہے جس سے ہنگامی حالات میں زندگی گزارنے والے لوگوں کے لیے روزمرہ ضروریات پوری کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے گزشتہ روز خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کا یہ بحران لاکھوں لوگوں کو غربت میں دھکیل سکتا ہے، اس سے بھوک میں اضافے اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات