پیپلز پارٹی ہائبرڈ نہیں پارلیمانی نظام پر یقین رکھتی ہے ن لیگی حکومت پیپلزپارٹی کی حمایت سے قائم ہے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے معیشت شدید متاثر ہوئی، ن لیگ کو اتحادیوں سے مشاورت کرنی چاہیے، حکومت سولر بجلی صارفین کیلئے مشکلات پیدا نہ کرے۔ سید نیئر حسین بخاری

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 2 مئی 2026 21:41

پیپلز پارٹی ہائبرڈ نہیں پارلیمانی نظام پر یقین رکھتی ہے ن لیگی حکومت ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 مئی 2026ء ) سیکریٹری جنرل پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز سید نیئر حسین بخاری نے ہفتہ کو جاری بیان میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی ہائبرڈ نظام نہیں پارلیمان کی منتخب کردہ جمہوری حکومت پر یقین رکھتی ہے ن لیگ کی حکومت پیپلز پارٹی کی حمایت سے قائم ہے، حکومت میں شامل نہ ہونا سی ای سی کا فیصلہ تھا، چیرمین بلاول بھٹو کی بحیثیت وزیر خارجہ کارکردگی بین الاقومی اور ملکی سطح پر تسلیم شدہ ہے،اسحاق ڈار نے خارجہ محاذ پر انتھک محنت کی، کارکردگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا نیر بخاری نے مزید کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے ہماری معیشت پر شدید متاثر ہوئی ہے،معیشت کو درست سمت میں لانے کیلئے حکومت کو اقدامات کرنے ہونگے، ن لیگ کو اتحادی جماعتوں کی قیادت سے معاشی بہتری کیلئے مشاورت کرنی چاہیے۔

(جاری ہے)

نیئر حسین بخاری نے مزید کہا ہے کہ آج کسان کاشتکار سب سے زیادہ متاثرہوئے ہیں، حکومت کو زرعی شعبے کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنی چاہئے، سولر بجلی کیلئے حکومت سہولیات دے نہ کہ مشکلات پیدا کی جائیں۔ نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ ٹیکس دہندگان سے ٹیکس وصولیاں یقینی بنائی جائیں صرف اسلام آباد میں 5000 بڑے کاروبار کی دکانوں سے خزانے میں کتنا ٹیکس جمع ہوتا ہے، رات جلد کاروبار بندش اچھا فیصلہ، ون ڈش پر پابندی بھی بہت اچھا اقدام ہے۔

نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان میں عدم استحکام کا بڑا نقصان افغانیوں کا اپنا ہو گا، افغان حکومت کو ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائیوں کے پاکستانی مطالبے کو سننا چاہئے۔ سرزمین وطن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو بھرپور جواب دیا جاتا رہے گا۔ نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ ججز تبادلے معمول کی کارروائی ہے۔ ماضی میں عدلیہ کا کردار سوالیہ نشان ہے ججز تعیناتی پارلیمانی کمیٹی کو افتخار چوہدری غیر موثر نہ کرتا تواج یہ حالات نہ ہوتے۔ ڈسٹرکٹ کورٹس میں مقدمات کی بھرمار ہائی کورٹس کردار ادا کریں