گورنرکے پی کی پی ٹی آئی کو سی سی آئی میں مذاکرات کی دعوت، صوبائی حقوق پر مکالمے پر زور

صوبائی حقوق کے لیے سی سی آئی ایک موثر فورم ہے جہاں مضبوط دلائل کے ساتھ مقدمہ پیش کیا جا سکتا ہے، فیصل کریم کنڈی

اتوار 3 مئی 2026 19:05

گورنرکے پی کی پی ٹی آئی کو سی سی آئی میں مذاکرات کی دعوت، صوبائی حقوق ..
جیکب آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 مئی2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیر اعلیٰ کے پی کو ایک بار پھر مسائل کے حل کے لیے آئینی فورمز خصوصاً سی سی آئی پر بات چیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ گالم گلوچ سے نہیں بلکہ دلیل اور مکالمے سے مسائل حل ہوتے ہیں، ہمارے صوبے کے ساتھ فنڈز، پانی اور این ایف سی کے حوالے سے زیادتی ہورہی ہے اس کا حل بیٹھ کر بات کرنے میں ہے، جیکب آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں سے پی ٹی آئی قیادت کو مسلسل کہا جا رہا ہے کہ سنجیدہ معاملات پر فورمز میں بات کریں مگر اس پر عمل نہیں کیا جا رہا، ان کا کہنا تھا کہ سی سی آئی ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں صوبے اپنے حقوق کے لیے مضبوط دلائل کے ساتھ مقدمہ پیش کرسکتے ہیں اور یہی جمہوری طریقہ کار ہے، فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے کے ساتھ پانی اور این ایف سی کے حصے کے حوالے سے زیادتی ہو رہی ہے جس کے حل کے لیے بیٹھ کر بات کرنا ضروری ہے، انہوں نے تحریک انصاف دو سال سے اعلانات پر گزارا کررہی ہے جبکہ گزشتہ 13 سال بھی اعلانات پر گزارا چلایا گیا ابھی بھی اعلانات پر ہی ہورہے ہیں مگر عملی اقدامات دکھائی نہیں دیتے جبکہ ان کی اپنی جماعت کے اندر بھی اختلافات موجود ہیں، انہوں نے کہا کہ ٹانک سے صوابی تک مارچ کا کوئی فائدہ نہیں اگرمارچ کرنا ہے تو میانوالی سے اڈیالہ تک کیا جائے، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پی کے میں اس قسم کے مارچ کے ذریعے صرف پروٹوکول حاصل کرنا چاہتی ہے جبکہ عوامی مسائل جوں کے توں ہیں، گورنر کے پی نے کہا کہ کے پی حکومت کو گڈ گورننس اور امن و امان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ڈرون حملوں پر تو بات کی ہے مگرانہوں نے ٹی ٹی پی کے حملوں پر بات نہیں کی جس سے ہمارے فوج و پولیس کے جوان اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے شاذ و نادر ہائی ویلیو ٹارگیٹ پر ہوتے ہیں جبکہ دہشت گردی کے واقعات تواتر کے ساتھ پیش آ رہے ہیں اس پر بات کیوں نہیں کی جا رہی۔