پیداوار بڑھانے کیلئے ڈیری مصنوعات پر ٹیکس کم کیا جا ئے،جی ایس ٹی میں نرمی سے ڈیری شعبہ مستحکم ہو سکتا ہے،رانا تنویر حسین

حالیہ ٹیکس پالیسیوں کے نتیجے میں رسمی ڈیری شعبہ سکڑ رہا ہے، دیہی سطح پر دودھ جمع کرنے کے مراکز بند ہو رہے ہیں اور محفوظ دودھ تک عوام کی رسائی محدود ہوتی جا رہی ہے جس کے تدارک کے لئے جامع پالیسی، سرمایہ کاری کے فروغ جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں، وفاقی وزیر

اتوار 3 مئی 2026 18:55

پیداوار بڑھانے کیلئے ڈیری مصنوعات پر ٹیکس کم کیا جا ئے،جی ایس ٹی میں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 مئی2026ء) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں ڈیری شعبے پر غیر متوازن ٹیکس نظام نہ صرف اس صنعت کی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے بلکہ غذائی تحفظ اور بچوں کی نشوونما جیسے سنگین مسائل کو بھی بڑھا رہا ہے،حالیہ ٹیکس پالیسیوں کے نتیجے میں رسمی ڈیری شعبہ سکڑ رہا ہے، دیہی سطح پر دودھ جمع کرنے کے مراکز بند ہو رہے ہیں اور محفوظ دودھ تک عوام کی رسائی محدود ہوتی جا رہی ہے جس کے تدارک کے لئے جامع پالیسی، سرمایہ کاری کے فروغ جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی اور پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام پری بجٹ مشاورتی اجلاس میں ماہرین، پالیسی سازوں اور صنعت سے وابستہ نمائندوں نے اس امر پر زور دیا کہ دودھ کو بنیادی غذائی ضرورت تسلیم کرتے ہوئے اس پر عائد 18 فیصد جی ایس ٹی میں نمایاں کمی، ٹیکس ڈھانچے میں اصلاحات، ڈیری شعبے کی دستاویزی تشکیل اور محفوظ و معیاری دودھ کی فراہمی کیلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

(جاری ہے)

مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ مویشی بانی کا شعبہ زرعی معیشت کا تقریبا 60 فیصد حصہ ہے اور اس میں ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ برآمدات کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ انہوں نیکہا کہ ٹیکس پالیسیوں، خصوصا ڈیری مصنوعات پر سیلز ٹیکس نیپیداوار اور ترقی کو متاثر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دودھ پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) میں کمی کوئی مشکل امر نہیں، ٹیکس کے نظام میں نرمی سے پیداوار اور محصولات دونوں میں اضافہ ممکن ہے اور اس حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔

ایس ڈی پی آئی کی ایسوسی ایٹ ریسرچ فیلو اور ماحولیاتی پائیداری و سرکلر اکانومی یونٹ کی سربراہ زینب نعیم نے کہا کہ دودھ کو عیش و عشرت نہیں بلکہ بنیادی غذائی ضرورت کے طور پر دیکھا جائے اور کم و متوسط آمدنی والے طبقات کے لئے اس کی دستیابی اور استطاعت بہتر بنانے کی حکمت عملی وضع کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشاورت کا مقصد حکومت، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر غذائی عدم تحفظ کیمسئلے کا حل تلاش کرنا اور ڈیری سیکٹر کو غذائیت کے ساتھ جوڑنا ہے۔

پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کے چیئرمین عثمان ظہیر احمد نے کہا کہ پاکستان میں 40 فیصد بچے غذائی قلت کے باعث نشوونما کی کمی کا شکار ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ شعبہ 98 فیصد غیر رسمی ہے اور 2024 میں 18 فیصد جی ایس ٹی کے نفاذ سے رسمی ڈیری شعبہ 27 فیصد تک سکڑ گیاہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ جی ایس ٹی کو 10 فیصد تک کم کیا جائے اور غیررسمی معیشت کے ایک حصے کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جس سے 250 ارب روپے تک محصولات حاصل ہو سکتے ہیں۔

گلوبل الائنس فار امپرووڈ نیوٹریشن کی کنٹری ڈائریکٹر فرح نازنے کہا کہ غذائی قلت پاکستان کو سالانہ تقریبا 3 فیصد جی ڈی پی کا نقصان پہنچا رہی ہے جبکہ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 40 فیصد سے زیادہ نشوونما کی کمی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ محفوظ دودھ کی قیمت کم کرنے کیلئے جی ایس ٹی کو 18 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کیا جانا چاہئے۔وزارت خزانہ کے بزنس ٹیکسیشن آفس کے ڈائریکٹر نعیم حسن نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی اور پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز قابلِ عمل اور دانشمندانہ ہیں اور حکومت مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

اس موقع پرسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کے ایڈیشنل سیکرٹری ساجد محمود قاضی نے ٹیکس نظام کی ساختی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دستاویزی شعبوں پر حد سے زیادہ انحصار رسمی کاروبار کو نقصان پہنچا رہا ہے اور ڈیری صنعت میں ٹیکس آمدن میں کمی کا باعث بن رہا ہے۔وزیراعظم آفس بورڈ آف انویسٹمنٹ کی نمائندہ ایمان فاطمہ نے کہا کہ ضابطہ جاتی پیچیدگیاں ڈیری فارمنگ میں نئے سرمایہ کاروں کی راہ میں رکاوٹ ہیں جبکہ 18 فیصد جی ایس ٹی نے اس شعبے کی ترقی کو مزید سست کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم سے وابستہ ماہر ڈاکٹر احتشام خان نے عوامی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کھلا دودھ اکثر مضر مائیکرو ٹاکسنز سے آلودہ ہوتا ہے جس کی وجہ ناقص چارہ اور معیاری جانچ کا فقدان ہے اور یہ صحت کے مسائل میں اضافہ کر رہا ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ ایک جامع اور طویل مدتی پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے جس میں مالیاتی، صحت اور دیہی ترقی کی حکمت عملیوں کو یکجا کیا جائے۔ انہوں نے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور چھوٹے کسانوں کو منڈیوں سے جوڑنے کیلئے اشتراکی ماڈلز کے فروغ پر زور دیا۔