قومی احتساب بیورو نے 6 ارب روپے مالیت کی 80 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرلی

پیر 4 مئی 2026 21:40

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 مئی2026ء) قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے غیر قانونی الاٹمنٹ منسوخ کروا کر اربوں روپے مالیت کی قیمتی سرکاری زمین واگزار کرا لی جس سے قومی خزانے کو بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔ترجمان نیب کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے اہم کارروائی کرتے ہوئے 80 ایکڑ قیمتی سرکاری زمین واگزار کرا لی جس کی مجموعی مالیت تقریباً 6 ارب روپے بتائی گئی ہے۔

مذکورہ زمین غیر قانونی طور پر میسرز بحریہ ٹائون کو الاٹ کی گئی تھی۔نیب حکام کے مطابق یہ زمین 8 جنوری 2015ء کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے محض 38 کروڑ 30 لاکھ روپے میں الاٹ کی گئی تھی۔ زمین حیدر آباد کے علاقے گلستان سرمست ہائوسنگ سکیم، دیھ گنجو ٹکر میں واقع ہے جو ایک نہایت قیمتی اور اہم لوکیشن شمار ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

دستاویزات کے مطابق زمین یونیورسٹی کے قیام کے لیے اس شرط پر الاٹ کی گئی تھی کہ تین سال کے اندر تعمیر مکمل کی جائے گی، بصورت دیگر الاٹمنٹ منسوخ تصور ہوگی اور ادا کی گئی رقم ضبط کر لی جائے گی تاہم میسرز بحریہ ٹائون مقررہ مدت میں اس شرط کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔

نیب کراچی کی انکوائری کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ زمین غیر قانونی طریقے سے الاٹ کی گئی تھی اور اس کی مالیت اربوں روپے ہے۔ نیب کی موثر کارروائی اور مداخلت کے نتیجے میں حیدر آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بحریہ ٹائون کی جانب سے ادا کی گئی جزوی رقم ضبط کرتے ہوئے زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی۔نیب حکام نے کہاکہ اس اقدام کے ذریعے قومی خزانے کو اربوں روپے کے ممکنہ نقصان سے بچایا گیا ہے جبکہ غیر قانونی الاٹمنٹس کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

متعلقہ عنوان :