صوبائی وزیر صحت کی زیر صدارت سندھ کابینہ کی قائم کردہ ذیلی کمیٹی کا دوسرا اجلاس

منگل 5 مئی 2026 18:03

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 05 مئی2026ء) سندھ حکومت کی جانب سے سندھ فارمرز ایگریکلچرل کلیکٹوز ایکٹ 2026 پر مشاورت کا عمل جاری ہے، جس کے تحت واٹر کورسز پر کسان تنظیموں کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے۔اس سلسلے میں سندھ کابینہ کی قائم کردہ ذیلی کمیٹی کا دوسرا اجلاس وزیر زراعت سندھ سردار محمد بخش مہر کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزرا جام خان شورو، علی حسن زرداری، معاون خصوصی راج ویرسنگھ سوڈھا، سیکریٹری زراعت محمد زمان ناریجو اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں ایوان زراعت سندھ کے نمائندگان سمیت کاشتکار رہنماؤں زاہد بھرگڑی، سید ندیم قمر، محمود نواز شاہ، نبی بخش سیٹھیو اور مسرور سومرو نے بھی شرکت کی اور ایکٹ سے متعلق اپنی تجاویز پیش کیں۔

(جاری ہے)

اجلاس کے دوران ایکٹ میں مزید بہتری کے لیے محکمہ زراعت اور کاشتکار نمائندوں پر مشتمل چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ اس کمیٹی میں ایڈیشنل سیکریٹری زراعت، محکمہ قانون کا نمائندہ، اور کاشتکار رہنما محمود نواز شاہ اور زاہد بھرگڑی شامل ہوں گے۔

وزیر زراعت نے کہا کہ کمیٹی ایکٹ میں ضروری ترامیم اور تجاویز تیار کر کے ذیلی کمیٹی کو پیش کرے گی، جس کے بعد اسے سندھ کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر متفقہ قانون سازی کی جائے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایکٹ کی منظوری کے بعد صوبے کے تمام واٹر کورسز پر ایک ایک کلیکٹوز کوآپریٹو آرگنائزیشن قائم کی جائے گی، جن کے لیے باقاعدہ کاشتکاروں کے انتخابات کرائے جائیں گے۔ ہر تنظیم میں صدر، سیکریٹری اور دیگر عہدیداران شامل ہوں گے تاکہ کاشتکاروں کو منظم اور بااختیار بنایا جا سکے۔