اسرائیل میں عیسائیوں کیخلاف بھی عدم برداشت میں اضافہ

رواں سال کے پہلے 3 ماہ میں عیسائیوں کے خلاف 31 واقعات رپورٹ

منگل 5 مئی 2026 23:27

تل ابیب (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 مئی2026ء) مقبوضہ مشرقی یروشلم میں ایک فرانسیسی راہبہ پر حالیہ حملہ عیسائی برادری کے لیے کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے تشدد کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل میں مقیم عیسائیوں کا کہناتھا کہ گزشتہ چند برسوں میں ہمارے خلاف ہراسانی، حملوں اور توہین آمیز رویوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

(جاری ہے)

عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں شائع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے 3 ماہ میں عیسائیوں کے خلاف 31 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ گزشتہ سال 113 حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں زیادہ تر مذہبی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا، روزمرہ کی بنیاد پر تھوکنا، گالیاں دینا اور عبادت گاہوں کی بے حرمتی جیسے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ متاثرہ افراد کا کہناتھا کہ پولیس پر اعتماد نہ ہونے کے باعث کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور قوم پرستانہ رجحان اس صورتِ حال کی بڑی وجہ ہے، خاص طور پر شدت پسند مذہبی اور آبادکار گروہوں کو ان واقعات میں ملوث قرار دیا جا رہا ہے۔