بلوچستان اسمبلی ،اپوزیشن جماعتوں کا صوبے میں مدارس کیخلاف کارروائی پر احتجاجاً واک آئوٹ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ اسمبلی طلب

منگل 5 مئی 2026 20:55

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 مئی2026ء) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علماء اسلام سمیت اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کا صوبے میں مدارس کے خلاف کاروائی پر احتجاجاً واک آئوٹ، اسپیکر نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ کو اسمبلی طلب کرلیا ۔ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منگل کو اسپیکر کیپٹن(ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا ۔

اجلاس میں نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈ ر میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ بلوچستان میں رجسٹریشن کے نام پرمدارس اورکچھ مساجد کوسیل کیا جارہا ہے،مدارس بند کئے جارہے ہیں اور شراب خانوں کو لائسنس دئیے جارہے ہیںہمیں رجسٹریشن پر اعتراض نہیں مگر انتظامیہ کارویہ ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 2600 مدارس ہیں جن میں 2200 رجسٹرڈ ہیں،400 مدارس بھی ہم رجسٹرڈ سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کرانا چاہتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم مدارس پرآنچ انے نہیں دیں گے،سڑکوں پرنکل کر درس وتدریس کریں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم میں قومی اسمبلی میں یہ قانون منظور ہوا ہے بلوچستان میں پہلے قانون پاس پھر کارروائی کرے۔ اس موقع پر اسپیکر مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پرایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کوفوری اسمبلی طلب کرلیا۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مدرسے اسلام کے قلعے ہیں،کچھ گرفتاریاں ہوئی تھیں جن کاتعلق مدارس سے ہے اس لئے حکومت نے تمام مدارس کو رجسڑڈکرنے کا کہا ہے،انہوں نے کہا کہ ہم مدارس کے ساتھ ہیں ان کی غلط فہمیوں کو دور کریں گے وزیراعلی کوئٹہ پہنچیں گے تو ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں گے۔

اجلاس میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئر مین اصغر علی ترین نے کہا کہ ہم مدارس کومدارس سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسڑڈ کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومت انہیں چیرٹیزایکٹ کے تحت رجسڑڈ کرانا چاہتی ہے کئی ایسے دہشت گردپکڑے گئے جن کاتعلق یونیورسٹیزسے تھاتوکیاانہیں بندکیاگیا اصغرترین نے کہا کہ کہ ہم بدھ کو صوبے میں احتجاج کریں گے 10 مئی کوقرآن پاک،جائے نمازکیساتھ کوئٹہ آئیں گے اورسڑکوں پر بیٹھیں گے۔

صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ ہم وزیراعلی کے ہمراہ مولاناعبدالوسع کے گھرجاکربات کریں گے۔پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر صوبائی وزیر میر صادق عمرانی نے کہا کہ ہم مدارس اور علماء کی بہت عزت کرتے ہیں،مولانا عبدالوسع کے گھر جاکر مدارس کے معاملے پر بات کریں گے اس میں کوئی عداوت نہیں،مل کر اس مسئلے کوحل کریں گے۔اجلاس کے دوران رکن اسمبلی مولاناہدایت الرحمان نے مدارس کے معاملے پربات کرنیکی کوشش کی تاہم اسپیکر کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے باوجود مولاناہدایت الرحمان مسلسل بات کرتے رہے۔

اسپیکر نے مولانا ہدایت الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اسمبلی کو چلنے نہیں دے رہے ہیںمولاناہدایت الرحمان جب تک مسئلہ کھڑا نہ کریں توان کی روٹی ہضم نہیں ہوتی۔نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے جمیعت علماء اسلام کے رکن غلام دستگیربادینی نے کہاکہ میرے حلقے میں مدارس اورمساجد کو سیل کیا گیا ہے نہ پہلے نوٹس دیا گیا نہ اطلاع دی گئی ۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولاناہدایت الرحمن نے کہا کہ کیا بلوچستان کے سارے مسائل حل ہوگئے ہیں کہ اب حکومت مدارس کے پیچھے پڑگئی اگرمدارس کوبند کیاتوہم سڑکوں پرآجائیں گے،دینی تعلیم سڑکوں پر دیں گے ۔ جمعیت علماء کے رکن سید ظفر آغا نے کہا کہ اگرمدارس پرہاتھ ڈالنے کاسلسلہ بند نہ ہوا توحکومت کوچلتا کردیں گے۔ اجلاس کے دوران مدارس اور مساجد کو سیل کردیاگیااس موقع پر اپوزیشن ارکان نے مدارس کو بند کرنے کے خلاف ایوان سے واک آوٹ کیا ۔ بعدازاں حکومتی ارکان کے منا کر لانے پر اپوزیشن ارکان دوبارہ ایوان میں آگئے ۔