مہاجرت کے محفوظ راستے تارکین وطن اور معیشتوں کے لیے سودمند

یو این بدھ 6 مئی 2026 22:15

مہاجرت کے محفوظ راستے تارکین وطن اور معیشتوں کے لیے سودمند

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 06 مئی 2026ء) عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ ہجرت پر پابندیاں لگانا کار لاحاصل ہے کیونکہ اس سے لوگ کہیں زیادہ خطرناک راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں مہاجرت کی صورتحال پر ادارے کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہجرت کے قانونی راستوں کو محدود کرنے سے مہاجرین کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں، ریاستوں کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور مہاجرت کے وسیع تر فوائد میں کمی آ جاتی ہے۔

Tweet URL

ہجرت عالمی معیشت میں اب بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

2024 کے وسط تک بین الاقوامی مہاجرین کی تعداد اندازاً 30 کروڑ 40 لاکھ تھی جو دنیا کی مجموعی آبادی کا تقریباً 3.7 فیصد ہیں۔ اسی طرح، مہاجر مزدوروں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے جو 2013 سے 2022 کے درمیان 3 کروڑ سے زیادہ بڑھ گئی۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محفوظ اور قانونی ہجرت کے راستے دنیا بھر کی معیشتوں، معاشروں اور لوگوں کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔

یہ جائزہ دو دہائیوں سے جاری ہے جس میں ہجرت سے متعلق عالمی اعداد و شمار اور تجزیات کو یکجا کیا جاتا ہے تاکہ پالیسی سازوں اور عام لوگوں کو ہجرت کے رجحانات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکے۔

مہارت، جدت اور روابط

'آئی او ایم' کی ترجمان زوئے برینن نے کہا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں مہاجرین بطور مزدور، کاروباری افراد اور صارفین اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ لوگ اپنے ساتھ مہارتیں، جدت اور سرحد پار روابط لے کر آتے ہیں۔

اندازے کے مطابق، 2024 میں مہاجرین کی جانب سے ترسیلات زر 905 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھیں جن میں سے 685 ارب ڈالر کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں بھیجے گئے۔ یہ رقم سرکاری ترقیاتی امداد اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری دونوں سے زیادہ ہے۔

ادارے کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ کا کہنا ہے کہ ہجرت دنیا بھر میں روزگار، معاشی ترقی، استحکام اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔

اگرچہ ہر ملک کو مہاجرت سے متعلق پالیسی بنانے کا حق حاصل ہے لیکن علاقائی اور عالمی سطح پر تعاون زیادہ محفوظ اور بہتر نتائج دیتا ہے۔

غیر مساوی مواقع

فوائد کے باوجود ہجرت کے مواقع یکساں نہیں ہیں۔ زیادہ آمدنی والے ممالک میں مہاجرین کے لیے مواقع زیادہ ہیں اور کم آمدنی والے ممالک میں یہ محدود رہتے ہیں۔ مختلف خطوں میں ہجرت کے رجحانات بھی مختلف ہیں۔

اسی دوران، دنیا بھر میں نقل مکانی کی سطح ریکارڈ حد تک پہنچ چکی ہے۔ 2024 کے اختتام تک 12 کروڑ سے زیادہ لوگ بے گھر تھے جن میں مہاجرین، پناہ کے خواہشمند اور اندرون ملک بے گھر ہو جانے والے افراد شامل ہیں۔ ان میں سے 8 کروڑ 34 لاکھ افراد اپنے ہی ملکوں کے اندر بے گھر ہوئے جو اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

بے گھری کی زیادہ تر وجوہات میں مسلح تنازعات، ماحولیاتی دباؤ اور بنیادی سہولیات کی کمی شامل ہیں۔

کئی بڑے بحران ایسے ہیں جن کے حل کے لیے انسانی امداد کے ساتھ طویل المدتی ترقیاتی حکمت عملی بھی ضروری ہے۔

ہجرت کے فوائد کو خطرہ

'آئی او ایم' کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہجرت سے حاصل ہونے والے فوائد اب خطرے میں ہیں۔ ہجرت کے قانونی راستے محدود ہونے کے نتیجے میں لوگ خطرناک ذرائع اختیار کر رہے ہیں جس سے امدادی اور معاشی اخراجات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

زوئے برینن کا کہنا ہے کہ ہجرت کے محفوظ اور قانونی راستوں کو یقینی بنانے اور علاقائی تعاون کو مضبوط کرنے سے رکن ممالک کو مہاجرت کا موثر انتظام کرنے میں مدد ملتی ہے۔

'آئی او ایم' نے ان فوائد کو برقرار رکھنے کے لیے کئی اقدامات تجویز کیے ہیں جن میں ہجرت کے محفوظ راستوں کو بڑھانا، ترسیلات زر کی لاگت میں کمی لانا، مہارتوں کی منتقلی میں مدد کی فراہمی اور علاقائی تعاون کو فروغ دینا شامل ہے۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں ہجرت کو موثر انداز میں سنبھالنے کے لیے بہتر معلومات اور مزید مشمولہ اور شواہد پر مبنی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔