Live Updates

ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہوں، ممکن ہے کہ اگلے ہفتے میرے دورہ چین سے پہلے معاہدہ ہوجائے

وٹکوف اور جیرڈ کشنرکو مذاکرات کیلئے بھیجنے کا امکان نہیں ہے، اگر ایران سے ڈیل نہیں ہوتی تو پھر دوبارہ بمباری شروع کرسکتے ہیں، اب حملے پہلے سے زیادہ سخت اور تباہ کن ہوں گے۔ صدر ٹرمپ کا بیان

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 6 مئی 2026 21:18

ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہوں، ممکن ہے کہ اگلے ہفتے میرے دورہ چین ..
واشنگٹن (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 06 مئی 2026ء ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہوں، ممکن ہے کہ اگلے ہفتے دورہ چین سے پہلے معاہدہ ہوجائے۔ میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدہ نہ ماننے پر ایک مرتبہ پھر بمباری کی دھمکی دے دی ۔ ایران نے اگر شرائط نہ مانی تو مزید شدت سے حملے شروع کردیں گے۔

ابھی ایران سے براہ راست بات چیت سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔ تہران نے شرائط مان لیں تو آبنائے ہرمز کو ایران سمیت سب کیلئے کھول دیں گے۔ صحافی نیویارک پوسٹ نے سوال کیا کہ کیا ہم امریکا ایران مذاکرات سے متعلق دوبارہ پاکستان جائیں گے؟ صدر ٹرمپ نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان جانے سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔

(جاری ہے)

یہ سوچنا قبل ازوقت ہے کہ امریکا ایران دوبارہ براہ راست مذاکرات کریں گے۔

ایران نے اگر شرائط تسلیم کیں تو آپریشن ایپک فیوری ختم ہوجائے گا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہوں، ہوسکتا ہے کہ اگلے ہفتے دورہ چین سے پہلے معاہدہ ہوجائے۔وٹکوف اور جیرڈ کشنرکو مذاکرات کیلئے بھیجنے کا امکان نہیں ہے، اگر ایران سے ڈیل نہیں ہوتی تو پھر دوبارہ بمباری شروع کرسکتے ہیں۔ اب حملے پہلے سے زیادہ سخت اور تباہ کن ہوں گے۔

دوسری جانب ترجمان ایرانی قومی سلامتی وخارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایگزیوس کا متن امریکیوں کی خواہش کی فہرست ہے، امریکا ناکام جنگ سے وہ حاصل نہیں کرسکتا جو کرنا چاہتا ہے، امریکا براہ راست مذاکرات میں بھی مطالبات منوانے میں ناکام رہا ۔ایران کی انگلی ٹریگر پر ہے اور جنگ کیلئے تیار ہے، دشمن ہتھیار نہیں ڈالتے اتحادیوں سے مل کر شرارت کریں گے تو سخت جواب ملے گا۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران میں امریکا کی تجاویز پر غور کیا جارہا ہے، ہم امریکی تجویز پر کسی نتیجے پر پہنچنے کے بعد پاکستان کو اپنا مئوقف بتائیں گے، ہم اپنی پوزیشن سے متعلق پاکستان کو آگاہ کریں گے، نیک نیتی کے بغیر بات چیت کو مذاکرات نہیں کہا جاسکتا، مذاکرات کا مطلب ڈکٹیشن ، دھوکا دہی یا دباؤ نہیں ہوتا۔جبردھوکازبردستی یا مسلط کرنا مذاکرات کے تصور کے منافی ہے، بین الاقوامی قوانین میں نیک نیتی کو بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات