ووٹ ہر شہری کا بنیادی آئینی اور جمہوری حق ہے،رانا سرفراز

مہاجرین حلقہ جات میں ووٹوں کی منسوخی پر شدید ردعمل، کشمیری مہاجرین کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں

جمعہ 8 مئی 2026 15:09

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مئی2026ء) امیدوار اسمبلی حلقہ LA-42 ویلی 03 رانا سرفراز احمد نے مہاجرینِ جموں و کشمیر کے ووٹ بغیر مکمل تحقیق اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر منسوخ کیے جانے کے عمل پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف کشمیری مہاجرین کے بنیادی جمہوری حقوق پر حملہ ہے بلکہ اس سے مہاجرین میں شدید بے چینی اور اضطراب بھی پیدا ہو رہا ہے۔

انہوں نے اپنے ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ ووٹ ہر شہری کا بنیادی آئینی اور جمہوری حق ہے، جسے کسی بھی صورت بلاجواز ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی شہری کا ووٹ بغیر شفاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کے ختم کیا جاتا ہے تو یہ سراسر ناانصافی، زیادتی اور جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔رانا سرفراز احمد نے کہا کہ مہاجرینِ جموں و کشمیر نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک وطنِ عزیز پاکستان اور تحریکِ آزادی کشمیر کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔

(جاری ہے)

مہاجرین نے نہ صرف اپنے گھربار، زمینیں اور جائیدادیں قربان کیں بلکہ آزادی? کشمیر کے مقصد کے لیے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ آج انہی مہاجرین کے ووٹ بغیر تصدیق اور مکمل جانچ پڑتال کے ختم کرنا انتہائی افسوسناک عمل ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ مہاجرین حلقہ جات میں ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں سے نکالے جا رہے ہیں جبکہ متاثرہ افراد کو نہ تو بروقت آگاہ کیا جا رہا ہے اور نہ ہی انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی فہرستوں میں شفافیت ضروری ہے، لیکن اس کے نام پر کسی بھی کشمیری مہاجر کو اس کے حقِ رائے دہی سے محروم کرنا ہرگز قابلِ قبول نہیں۔رانا سرفراز احمد نے کہا کہ مہاجرین حلقہ جات تحریکِ آزادی کشمیر کی علامت اور کشمیری مہاجرین کی سیاسی شناخت ہیں۔ ان نشستوں کا مقصد ہی یہ تھا کہ مہاجرینِ کشمیر کی آواز اسمبلی اور ایوانوں تک پہنچ سکے۔

اگر آج انہی حلقوں میں ووٹ ختم کر کے مہاجرین کی نمائندگی کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر دانستہ طور پر مہاجرین کے سیاسی کردار کو محدود کرنا چاہتے ہیں، مگر غیور کشمیری مہاجرین اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کریں گے۔انہوں نے چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر، متعلقہ اداروں اور حکومتِ آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا کہ اس حساس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور تمام متاثرہ افراد کے ووٹ فوری طور پر بحال کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر ووٹر کو مکمل قانونی حق دیا جائے اور کسی بھی ووٹ کی منسوخی سے قبل مکمل تحقیقات، دستاویزی تصدیق اور شفاف طریقہ? کار اختیار کیا جائے تاکہ کسی بھی شہری کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔رانا سرفراز احمد نے مزید کہا کہ اگر مہاجرینِ کشمیر کے ووٹ بلاجواز ختم کرنے کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کے خلاف بھرپور جمہوری، آئینی اور قانونی احتجاج کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ مہاجرینِ کشمیر کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی کو یہ اجازت دی جائے گی کہ وہ مہاجرین کی سیاسی آواز دبانے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین مقیم پاکستان نے ہمیشہ ریاستِ جموں و کشمیر کے تشخص، تحریکِ آزادی اور پاکستان کے استحکام کے لیے تاریخی کردار ادا کیا ہے، اس لیے ان کے ووٹ اور نمائندگی کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے تمام سیاسی، سماجی اور مہاجر تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر مہاجرین کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہوں اور اس معاملے پر مشترکہ مؤقف اختیار کریں تاکہ کسی بھی کشمیری مہاجر کو اس کے آئینی حقِ رائے دہی سے محروم نہ کیا جا سکے۔