صارفین کی حفاظت اور علاج کیلئے کوالٹی کنٹرول ضروری ہے،وائس چانسلر عمران امین

جمعہ 8 مئی 2026 18:54

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مئی2026ء) خوراک اور دیگر مصنوعات میں استعمال ہونے والی دواں کی جڑی بوٹیوں اور مسالوں میں ملاوٹ صحت کے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ لہذا کوالٹی کنٹرول کے اقدامات اوراجزا کی افادیت کو محفوظ بنانے کی اشد ضرورت ہے،اس بات کا مشاہدہ ہمدرد یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن کی جانب سے شفا الملک میموریل پوسٹ گریجویٹ ریسرچ لیبارٹری میں منعقدہ دو روزہ ورکشاپ میں ماہرین نے کیا۔

ورکشاپ کے اختتامی سیشن کے مہمان خصوصی ہمدرد یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمران امین تھے۔ورکشاپ میں مختلف یونیورسٹیز اور دیگر پیشہ ورانہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمران امین نے اپنے خطاب میں مالیکیولر سطح پر ملاوٹ کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیااور کہا کہ خوراک اور دیگر مصنوعات میں استعمال ہونے والی دواں کی جڑی بوٹیوں اور مسالوں میں ملاوٹ صحت کے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صارفین کی حفاظت اور علاج کیلئے کوالٹی کنٹرول کی اشد ضرورت ہے۔ورکشاپ کے دوران شرکا کو PCRپر مبنی طریقوں کے ذریعے DNAکی سطح پر ملاوٹ کا پتا لگانے اور شناخت کرنے کے لئے جدید مالیکیولر تکنیک کی تربیت دی گئی۔ ورکشاپ میں ماہرین نے صارفین کی حفاظت اور علاج کی افادیت کو یقینی بنانے کے لئے جڑی بوٹیوں کی ادویات اور کھانے کے اجزا میں تصدیق اورکوالٹی کنٹرول کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

ڈین فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن پروفیسر ڈاکٹر ارشد محمود نے جڑی بوٹیوں کی ادویات میں پاکیزگی اور افادیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پاکیزی کے اعلی معیار کو برقرار رکھنے کے حوالے سے کہا کہ دواں کی جڑی بوٹیوں کے معیار کو یقینی بنانے کے لئے جدید مالیکیولر ٹولز ضروری ہیں۔ ورکشاپ میں ڈی این اے نکالنے، PCRکی صداقت اور مالیکیولر شناخت کی تیکنیک پر عملی سیشن شامل تھے۔ ورکشاپ کے اختتام پر مہمان خصوصی نے منتظمین محترمہ اِیلاف شیخ، حاجرہ الیاس،کاظم،عمید، ڈاکٹر سید رضوان اور ڈاکٹر معراج زہرہ کی کاوشوں کو سراہا اور سرٹیفکیٹ تقسیم کئے۔

متعلقہ عنوان :