احد چیمہ کی زیرصدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی میں مجوزہ اصلاحات کے حوالے سے اہم اجلاس

جمعہ 8 مئی 2026 22:51

احد چیمہ کی زیرصدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی میں مجوزہ اصلاحات ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مئی2026ء) وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ کی زیرِ صدارت ایک اعلی سطح کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے قانون میں مجوزہ کلیدی ترامیم کا جائزہ لیا گیا جن کا مقصد پاکستان میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کی گورننس، شفافیت، کارکردگی اور نفاذ کے طریقہ کار کو بہتر بنانا ہے۔

اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، سیکرٹری نجکاری ڈویژن حماد شمیمی، سیکرٹری نجکاری کمیشن عثمان اختر باجوہ، سیکرٹری قانون و انصاف راجہ نعیم اکبر اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے سینئر حکام نے شرکت کی، جنہوں نے وفاقی وزیر احد چیمہ کو زیرِ غور قانونی اورترامیم پر بریفنگ دی۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ نے اجلاس کے دوران حکومت کے اس عزم پر زور دیا کہ ایسی تعمیری اور مستقبل بین اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی جو ادارہ جاتی کارکردگی کو مضبوط بنائیں گی اور پی پی پی منصوبوں میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنائیں گی۔

انہوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی قانون میں مجوزہ ترامیم کا جائزہ لیا لیا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے مجموعی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ان مجوزہ اصلاحات کے تحت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کو مزید مضبوط کیا جائے گا، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی منصوبوں کے نفاذ اور ان پر عملدرآمد پر بھی توجہ مرکوز کرے گی۔

مزید برآں، وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں بہتر ہم آہنگی، ادارہ جاتی توازن اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اتھارٹی اب پلاننگ ڈویژن کے بجائے نجکاری ڈویژن کے ماتحت کام کرے گی۔ان مجوزہ تبدیلیوں میں پراجیکٹ پلاننگ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے ایک منظم پراجیکٹ پائپ لائن اور بولی کا طریقہ کار وضع کرنا بھی شامل ہے۔

نیا طریقہ کار پراجیکٹ پائپ لائنز کی تیاری میں بزنس کونسلز اور چیمبرز کے کردار کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جبکہ قابلِ عمل پی پی پی منصوبوں کی تیاری اور ان پر عملدرآمد میں معاونت کے لیے ایک مخصوص پراجیکٹ ڈویلپمنٹ فیسیلٹی قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ ان اصلاحات کا مقصد مسائل کے حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا، نگرانی کے نظام کو بہتر کرنا اور بہتر اوور سائیٹ کے لیے مشاورتی کردار کو مزید موثر بنانا ہے۔

ان ترامیم میں پی پی پی منصوبوں کے لیے درکار زمین، بجلی اور دیگر یوٹیلٹی سہولیات تک رسائی کو آسان بنانے پر بھی توجہ دی گئی ہے تاکہ منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد ہو سکے۔ وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ایک جدید اور سرمایہ کار دوست فریم ورک تیار کرنے کے لیے پرعزم ہے جو پائیدار اقتصادی ترقی اور قومی ترقیاتی منصوبوں میں نجی شعبے کی شرکت کو فروغ دے سکے۔