وندے ماترم کو لازمی قرار دینا غیر آئینی ، مذہبی آزادی کے منافی ہے، مسلم پرسنل لا بورڈ

جمعہ 8 مئی 2026 21:28

نئی دلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 مئی2026ء) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مودی حکومت کی کابینہ کے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کیا ہے جس کے تحت وندے ماترم کو قومی ترانے’جن گن من‘ کے مساوی درجہ دینے ، اسکے تمام چھ بند لازمی قراردینے اور تمام سرکاری دفاتر اورتعلیمی اداروں کے پروگراموں میں جن گن من سے قبل پڑھنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بورڈ نے اس فیصلے کو بھارتی دستور کی بنیادی روح ، مذہی آزادی اور سیکولر اقدار کے سراسر منافی قرار دیا ہے۔بورڈ نے حکومت نے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے کو فوری واپس لے ۔ بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم الیاس نے ایک بیان میں کہا کہ مرکزی کابینہ کا فیصلہ نہ صرف غیر آئینی اور غیر جمہوری ہے بلکہ ملک کے مذہبی تنوع اور آئینی اقدار کے بھی خلاف ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ایک سیکولر ریاست کسی مخصوص مذہبی تصور یا عقیدے کو تمام شہریوں پر زبردستی مسلط نہیں کر سکتی ہے ۔ وندے ماترم کے متعدد بندوں میں درگا اور دیگر دیوی دیوتائوں کی تعریف کی گئی ہے اور ان میں عبادت کا جو تصور موجود ہے ، وہ مسلمانوں کے بنیادی عقیدہ توحید سے براہ راست متصادم ہے، اسلام صرف اور صرف ایک اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی تعلیم دیتا ہے اور کسی بھی قبیل کے شرک کوقبول نہیں کرتا ۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی وحدت و سالمیت جبر یا مذہبی بالا دستی سے نہیں بلکہ آئین ، باہمی احترام اور مذہبی آزادی کے تحفظ سے مضبوط ہوتی ہے ، بی جے پی حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک کے حساس مذہبی معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے باز رہے اور ایسے فیصلوں سے گریز کرے جو قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہوں ۔ مسلم پرسنل لابورڈ نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے اس فیصلے کو فوری طورپر واپس نہ لیا بورڈ اسکے خلاف عدالت جائے گا۔