ملیریا ویکسین بچوں کی زندگیاں بچانے میں کامیاب، عالمی ادارہ صحت
یو این
ہفتہ 9 مئی 2026
06:45
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 09 مئی 2026ء) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ ملیریا کی ویکسین سے افریقہ میں بچوں کی اموات میں نمایاں کمی آ رہی ہے اور توقع ہے کہ دیگر ممالک میں بھی ایسے یا اس سے بہتر نتائج حاصل ہوں گے۔
ادارے نے معروف طبی جریدے دی لینسٹ میں شائع ہونے والی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2019 سے 2023 کے دوران گھانا، کینیا اور ملاوی میں متعارف کرائی گئی 'آر ٹی ایس، ایس' ملیریا ویکسین کی بدولت چار برس کے دوران ہر آٹھ میں سے ایک موت کو روکنے میں مدد ملی۔
'ڈبلیو ایچ او' میں حفاظتی ٹیکوں، ویکسین اور حیاتیاتی ادویات کے شعبے کی ڈائریکٹر کیٹ اوبرائن نے کہا ہے کہ یہ نتائج اس حقیقت کا نہایت واضح ثبوت ہیں کہ ملیریا کی ویکسین افریقہ میں بچوں کی اموات سے متعلق صورتحال بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
(جاری ہے)
لہٰذا، اس ویکسین کا پھیلاؤ بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔
افریقی بچوں کے لیے نئی امید
ملیریا اب بھی افریقہ میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔
2024 میں ہی اندازاً چار لاکھ 38 ہزار افریقی بچے اس بیماری کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ 'ڈبلیو ایچ او' کا کہنا ہے کہ اگر تجویز کردہ 'آر ٹی ایس، ایس' اور نئی 'آر 21' ویکسین کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا جائے تو ہر سال ہزاروں بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ماہرینِ صحت کے مطابق ویکسین اس وقت زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے جب اسے ملیریا سے بچاؤ کے دیگر اقدامات، جیسا کہ جراثیم کش مچھر دانیوں، بروقت تشخیص اور فوری علاج کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' میں شعبہ ملیریا اور نظرانداز شدہ امراض کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈینیئل گامیجے ماداندی نے کہا ہے کہ ملیریا کی ویکسین بیماری کے خلاف اقدامات کو مزید مضبوط بناتی اور اس سے بچاؤ کی سہولتوں تک رسائی میں اضافہ کرتی ہے۔
اس مہم سے معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے نظام کو بہتر بنانے کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ ویکسین کی چار خوراکوں کے لیے بچوں کو متعدد بار مراکز صحت جانا پڑتا ہے اور ان مواقع پر دیگر ویکسین اور سہولیات، جیسا کہ وٹامن اے سپلیمنٹ اور مچھر دانیاں بھی فراہم کی جا سکتی ہیں۔
ویکسین پر سرمایہ کاری کی ضرورت
اگرچہ ملیریا کے خلاف ویکسین کی طلب بہت زیادہ ہے اور اس کی رسد بھی دستیاب ہے لیکن 'ڈبلیو ایچ او' نے خبردار کیا ہے کہ مالی وسائل کی کمی اب بھی اس مرض پر قابو پانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ رکن ممالک کو نہ صرف ویکسین خریدنے بلکہ اسے دیگر ضروری حفاظتی اقدامات کے ساتھ موثر انداز میں عوام تک پہنچانے کے لیے بھی مستقل سرمایہ کاری درکار ہے۔
ادارے نے عالمی شراکت داروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی معاونت بڑھائیں تاکہ افریقہ میں ہونے والی پیش رفت کا تسلسل برقرار رہے اور اس کے فوائد سب سے زیادہ کمزور اور سنگین خطرات سے دوچار آبادیوں تک پہنچ سکیں۔
مزید اہم خبریں
-
لبنان: جنگ بندی لیکن خوراک لوگوں کی پہنچ سے پھر بھی دور، یو این ادارہ
-
ملیریا ویکسین بچوں کی زندگیاں بچانے میں کامیاب، عالمی ادارہ صحت
-
ہنٹا وائرس کے وسیع پھیلاؤ کا امکان انتہائی کم، ڈبلیو ایچ او
-
یوکرین: جنگ کے آغاز سے لیکر اب تک نظام صحت پر 3,000 حملے
-
صومالیہ: غذائی قلت سے 20 فیصد لوگوں کو قحط کا سامنا، ڈبلیو ایف پی
-
چیمپئن آف ارتھ ایٹنبرا کو 100 سالہ ہونے پر یو این کی مبارکباد
-
صدرٹرمپ دورہ چین سے پہلے معاہدہ چاہتے ہیں کیونکہ جنگ جاری رہی تو ان کی پوزیشن کمزور رہے گی
-
حکومت نے عوام پر پٹرول بم گرا دیا
-
کراچی کی تباہی کی ذمہ دار صرف پیپلزپارٹی نہیں بلکہ وہ قوتیں بھی ہیں جنہوں نے کرپٹ اور نااہل لوگوں کو عوام پر مسلط کیا
-
خیبرپختونخوا میں دو مختلف کارروائیوں کے دوران پانچ خوارج ہلاک
-
ہم نے گزشتہ رات کی جارحیت ناکام بنائی، دشمن پسپا ہوا، اسماعیل بقائی
-
راولپنڈی میں قتل کی لرزہ خیز واردات
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.