Live Updates

لبنان: جنگ بندی لیکن خوراک لوگوں کی پہنچ سے پھر بھی دور، یو این ادارہ

یو این ہفتہ 9 مئی 2026 06:45

لبنان: جنگ بندی لیکن خوراک لوگوں کی پہنچ سے پھر بھی دور، یو این ادارہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 09 مئی 2026ء) لبنان میں جنگ بندی کے باوجود ہلاکتوں اور نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کے جنوبی علاقوں کے دیہات اسرائیلی حملوں کے بعد اس قدر تباہ ہو چکے ہیں کہ انہیں پہچاننا بھی مشکل ہے۔

لبنانی حکام کے مطابق، 2 مارچ سے اب تک لبنان میں حزب اللہ کے جنگجوؤں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 2,700 سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

حزب اللہ نے 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی بمباری شروع ہونے کے بعد شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے شروع کیے تھے جس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں بڑے پیمانے پر بمباری کی۔

Tweet URL

17 اپریل کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد لبنان میں 380 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 25 خواتین بھی شامل ہیں۔

(جاری ہے)

یو این ویمن میں عرب ممالک کے لیے علاقائی ڈائریکٹر معیز دورید نے بتایا ہے کہ جنگ بندی کے ظاہری تحفظ کے سائے میں اپنے گھروں کو واپس جانے کی کوشش کرنے والی خواتین کی زندگیاں خطرات سے دوچار ہیں۔

اسرائیلی فضائی حملوں، انخلا کے احکامات، بعض علاقوں میں پناہ گزینوں کی واپسی پر پابندیوں اور نقل و حرکت کی رکاوٹوں کے باعث زیادہ تر لوگ اب بھی اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکتے جبکہ اندازاً پانچ لاکھ سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں اب بھی بے گھر ہیں۔

خوراک کا شدید بحران

معیز دورید نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے وہ ان خواتین، لڑکیوں، مردوں اور بچوں کے ساتھ کھڑی ہو تاکہ امید کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔ لبنان میں ماضی کی جنگوں سے برعکس حالیہ تنازع نے بہت سے لوگوں کی امید چھین لی ہے اور جنوبی لبنان میں گھر اور زمینیں تباہ ہو گئی ہیں۔ انہوں نے ایک خاتون کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے اہلخانہ کو کھانا کھلانے کے لیے جنگلی جڑی بوٹیاں جمع کرنے پر مجبور ہے کیونکہ خوراک کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

یہ تشویشناک صورتحال غذائی تحفظ کے ماہرین کی رپورٹس سے بھی مطابقت رکھتی ہے جن کے مطابق، آئندہ مہینوں میں مزید ایک لاکھ 44 ہزار خواتین اور لڑکیاں شدید بھوک یا اس سے بھی بدترین حالات کا شکار ہو سکتی ہیں جس سے متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کی مجموعی تعداد تقریباً چھ لاکھ 39 ہزار تک پہنچ جائے گی۔

بنیادی سہولیات کی تباہی

آج لبنان میں خوراک، پانی، صحت کی سہولیات، تعلیم اور دیگر بنیادی خدمات تک رسائی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔

تقریباً 12 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں جبکہ اسرائیلی انخلا کے احکامات نے ملک کے پہلے سے کہیں زیادہ علاقوں کو متاثر کیا ہے اور پوری کی پوری آبادیاں اجڑ گئی ہیں۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، مگر امن اب بھی قائم نہیں ہوا۔ ہزاروں لوگ انتہائی مشکل حالات میں واپس آ رہے ہیں جہاں گھروں کی بڑے پیمانے پر تباہی کے علاوہ اَن پھٹے گولہ بارود کا خطرہ موجود ہے۔

عالمی ادار خوراک (ڈبلیو ایچ او) نے اب تک جنوبی لبنان کے لیے 19 امدادی قافلوں کی نقل و حرکت ممکن بنائی ہے جن کے ذریعے 84,500 افراد تک امداد پہنچائی گئی۔

انسانی امداد کی ضرورت

ادارے میں امدادی کارروائیوں کے شعبے میں اسسٹنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر میتھیو ہولنگورتھ نے کہا ہے کہ عام طور پر اسرائیل کو بھیجی جانے والی امدادی قافلوں کی درخواستوں میں سے 50 فیصد سے بھی کم کو منظوری ملتی ہے۔

دور دراز علاقوں میں مزید امدادی قافلے بھیجے جانا چاہئیں

معیز دورید نے بتایا ہے کہ 2 مارچ سے اب تک یو این ویمن نے 15 ہزار سے زیادہ خواتین اور لڑکیوں کو براہ راست مدد دی ہے جبکہ مجموعی امدادی سرگرمیوں سے 70,000 سے زیادہ افراد مستفید ہوئے ہیں۔ انتہائی مشکل حالات کے باوجود خواتین اور ان کی تنظیمیں غیر معمولی ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں کو مدد دے رہی ہیں۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات