ہنٹا وائرس کے وسیع پھیلاؤ کا امکان انتہائی کم، ڈبلیو ایچ او

یو این ہفتہ 9 مئی 2026 06:45

ہنٹا وائرس کے وسیع پھیلاؤ کا امکان انتہائی کم، ڈبلیو ایچ او

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 09 مئی 2026ء) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے واضح کیا ہے کہ ہنٹا وائرس کے عام آبادی میں پھیلنے کا خطرہ انتہائی کم ہے کیونکہ متاثرہ فرد کے قریب رہنے سے بھی اس مرض کی منتقلی کا زیادہ امکان نہیں ہوتا۔

'ڈبلیو ایچ او' کے ترجمان کرسچین لنڈمیئر نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ہنٹا وائرس کووڈ نہیں ہے اور یہ وائرس کسی طور اس رفتار سے نہیں پھیل رہا جس طرح کورونا وائرس پھیلا تھا۔

Tweet URL

ادارہ بحر اوقیانوس میں کابو ویڈ کے قریب مسافر بردار بحری جہاز (کروز شپ) پر پھوٹنے والی ہنٹا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے اقدامات کر رہا ہے۔

(جاری ہے)

نیدرلینڈز کے پرچم والے اس جہاز پر مرض سے متاثرہ تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پانچ بیمار ہیں۔ یہ وبا سامنے آنے کے بعد 'ڈبلیو ایچ او' نے یورپ، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے مختلف ممالک میں صحت عامہ سے متعلق ایک بڑی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔

رابطوں کا سراغ

ترجمان نے واضح کیا ہے کہ جہاز پر مریضوں سے قریبی تعلق رکھنے والے لوگوں اور ہلاک ہو جانے والی ایک خاتون کی دیکھ بھال کرنے والی عملے کی ایک رکن کے ٹیسٹ بھی منفی آئے ہیں۔

اس سے سبھی کو یقین ہو جانا چاہیے کہ یہ وائرس خطرناک ضرور ہے مگر صرف اسی فرد کے لیے خطرناک ہے جو اس سے متاثر ہوا ہو۔

انہوں نے کہا کہ مریضوں سے رابطے میں آنے والے ہر فرد کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ طیاروں اور جہازوں کی نشستوں کی فہرستیں دیکھی جا رہی ہیں اور لوگوں کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ کہاں کہاں گئے اور کون سے لوگوں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے۔

اس وائرس کی منتقلی کے لیے عموماً بہت قریبی اور طویل رابطہ ضروری ہوتا ہے۔ سوئزرلینڈ کے ہسپتال میں زیرعلاج اک متاثرہ شخص کی اہلیہ میں اب تک ہنٹا وائرس کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ وائرس زیادہ متعدی معلوم نہیں ہوتا۔

حفاظتی اقدامات

ہینٹا وائرس دراصل جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا وائرس ہے جو عموماً چوہوں میں پایا جاتا ہے۔

یہ انسانوں میں متاثرہ چوہوں یا ان کے پیشاب، لعاب یا فضلے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔

لاطینی امریکہ کے بعض حصوں میں پایا جانے والا اینڈیز وائرس اس کی واحد قسم ہے جو محدود حد تک ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہو سکتی ہے۔

اس وبا کے بعد بین الاقوامی طبی ضوابط کے تحت اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں جو سرحد پار صحت کے خطرات سے نمٹنے کا عالمی نظام ہے۔ 'ڈبلیو ایچ او' نے بتایا ہے کہ وہ اس معاملے میں کابو ویڈ، سپین، نیدرلینڈز، جنوبی افریقہ، برطانیہ اور ارجنٹائن کے حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہا ہے۔