صومالیہ: غذائی قلت سے 20 فیصد لوگوں کو قحط کا سامنا، ڈبلیو ایف پی

یو این ہفتہ 9 مئی 2026 06:45

صومالیہ: غذائی قلت سے 20 فیصد لوگوں کو قحط کا سامنا، ڈبلیو ایف پی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 09 مئی 2026ء) اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ صومالیہ میں 19 لاکھ بچوں سمیت 60 لاکھ افراد یا ملک ایک تہائی آبادی شدید غذائی قلت کا شکار ہے جس میں 20 فیصد لوگ قحط کے دھانے پر ہیں جبکہ یہ بحران روز بروز شدت اختیار کر رہا ہے۔

ادارے کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر میتھیو ہولنگورتھ کے مطابق، یہ بحران عالمی معاشی دھچکوں کے باعث مزید سنگین ہو رہا ہے جن کا تعلق آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ کی وسیع تر کشیدگی سے ہے۔

ملک کے بعض علاقوں میں خوراک کی قیمتوں میں 70 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے اور ایندھن کی قیمتیں 150 فیصد تک بڑھ گئی ہیں جس سے امدادی سامان اور روزمرہ اشیائے ضرورت کی ترسیل مزید مہنگی ہو گئی ہے۔

(جاری ہے)

Tweet URL

سپلائی کے راستے بھی متاثر ہوئے ہیں جس کے باعث انسانی امدادی کارروائیاں مشکل ہوتی جا رہی ہیں جبکہ متواتر خشک سالی، تنازعات اور نقل مکانی نے پہلے ہی لوگوں کو تباہ حال کر دیا ہے۔

موجودہ حالات میں خوراک کی قلت کا شکار بچوں کے لیے غذائیت کا سامان لے جانے والے کنٹینر جہاز رانی میں بڑے پیمانے پر پیدا ہونے والے خلل کے باعث 40 روز کی تاخیر سے صومالیہ پہنچ رہے ہیں۔

خشک سالی اور نقل مکانی

میتھیو ہولنگورتھ نے صومالیہ کے علاقے پنٹ لینڈ میں انتہائی خراب حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ آبی ذخائر خشک ہو جانے، معاشی تباہی اور مسلسل خشک سالی کے باعث لوگ خوراک اور پانی کی تلاش میں گھربار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

صومالیہ مسلسل تین ناکام بارانی موسم جھیل چکا ہے جس سے فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، مویشیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے، روزگار کے ذرائع برباد ہو چکے ہیں اور لاکھوں لوگوں کی زندگیاں متاثر ہوئی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ بارشیں بھی ان لوگوں کے مصائب میں کمی نہیں لا سکیں جو پہلے ہی اپنی بقا کی تمام صلاحیتیں کھو چکے ہیں۔

امدادی نظام کی تباہی

'ڈبلیو ایف پی' کے مطابق، مالی وسائل کی شدید قلت کے باعث امدادی ادارے اب انتہائی مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔

اس وقت 10 فیصد ضرورت مند لوگوں تک غذائی امداد پہنچ رہی ہے جبکہ گزشتہ سال 20 لاکھ سے زیادہ افراد امداد حاصل کر رہے تھے۔

میتھیو ہولنگورتھ پنٹ لینڈ کے دورے میں ایک طبی مرکز میں بھی گئے جہاں مائیں اپنے غذائی قلت کے شکار بچوں کو علاج کے لیے سیکڑوں کلومیٹر فاصلے سے پیدل لائی تھیں۔ ایک ماں نے انہیں بتایا کہ اس کے تین سالہ بیٹے کو صرف دو ماہ تک غذائی امداد ملی جس کے بعد وسائل ختم ہونے کی وجہ سے امداد بند کر دی گئی۔

اب وہ اس فکر میں مبتلا ہے کہ آئندہ مہینے اپنے بچوں کو کھانا کیسے کھلائیں گی۔

اس علاقے میں فعال طبی مراکز کی تعداد گزشتہ سال 12 تھی جو اب کم ہو کر صرف تین رہ گئی ہے۔ بعض مراکز میں غذائی قلت سے بچاؤ کے پروگرام بند ہو چکے ہیں اور صرف ہنگامی علاج باقی رہ گیا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر مالی امداد نہ ملی تو جولائی تک صومالیہ میں اس کی کارروائیاں پوری طرح بند ہو سکتی ہیں۔

قحط کی بازگشت

امدادی حکام صومالیہ کی موجودہ صورت حال کا موازنہ 2022 سے کر رہے ہیں جب طویل خشک سالی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے باعث ملک قحط کے انتہائی قریب پہنچ گیا تھا۔ اس وقت عالمی برادری کی وسیع امدادی کوششوں کے نتیجے میں بڑے انسانی المیے کو روکنے میں مدد ملی۔

ادارے کے پاس امداد کی تقسیم کے حوالے سے ضروری نظام اور بنیادی ڈھانچہ موجود ہے اور 17 لاکھ ضرورت مند افراد بائیو میٹرک طور سے رجسٹرڈ ہیں جنہیں ہنگامی بنیاد پر نقد امداد فراہم کی جا سکتی ہے۔

میتھیو ہولنگورتھ نے کہا ہے کہ آج بھی ایسی تباہی سے بچا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے حکومتوں اور امدادی اداروں کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔