یوکرین: جنگ کے آغاز سے لیکر اب تک نظام صحت پر 3,000 حملے

یو این ہفتہ 9 مئی 2026 06:45

یوکرین: جنگ کے آغاز سے لیکر اب تک نظام صحت پر 3,000 حملے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 09 مئی 2026ء) یوکرین میں فروری 2022 سے جنگ شروع ہونے کے بعد صحت کے نظام پر تین ہزار سے زیادہ حملے ہو چکے ہیں جن میں بنیادی مراکز صحت، زچہ بچہ ہسپتالوں، ایمبولینس گاڑیوں اور ادویات کے گوداموں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ اس جنگ کے 1,534 ایام میں یوکرین کا نظام صحت متواتر حملوں کی زد میں رہا ہے۔

تقریباً 80 فیصد حملوں میں ہسپتالوں کو کسی نہ کسی انداز میں نقصان پہنچا۔ اس طرح طبی عملے کی ہلاکتوں، خدمات کی فراہمی متاثر ہونے اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے نتیجے میں صحت کے نظام کی صلاحیت کمزور پڑ گئی ہے۔

Tweet URL

ایمبولینس اور دیگر طبی گاڑیوں پر حملے مجموعی واقعات کا تقریباً 20 فیصد تھے۔

(جاری ہے)

تقریباً ایک تہائی واقعات میں طبی عملے کے ارکان یا مریض ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس طرح طبی نقل و حمل سب سے زیادہ خطرے کا شکار شعبوں میں شامل ہو گئی ہے۔

یورپ کے لیے 'ڈبلیو ایچ او' کے علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر ہینز کلوگے نے کہا ہے کہ ایسا ہر حملہ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے جس میں مریضوں کی علاج معالجے تک رسائی متاثر ہوئی، طبی کارکنوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوا اور پورے کے پورے علاقے صحت کی سہولیات سے محروم ہو گئے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایسے حملوں کو معمول بننے نہین دیا جا سکتا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت صحت کی سہولیات کو ہر طرح کے حالات میں تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

بڑھتی ہلاکتیں اور امدادی ضروریات

یوکرین میں صحت کی سہولیات پر مسلسل حملوں نے طبی عملے کی بنیادی علاج معالجہ فراہم کرنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کیا ہے جبکہ ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے کے مطابق، ملک بھر میں تقریباً ایک کروڑ 27 لاکھ افراد انسانی امداد کے محتاج ہیں جن میں 92 لاکھ کو طبی امداد درکار ہے۔ اس دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں 2025 کے مقابلے میں تقریباً 31 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یوکرین میں 'ڈبلیو ایچ او' کے دفتر نے کہا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک صحت کے شعبے پر 186 حملوں کی تصدیق ہوئی ہے جن میں 15 افراد ہلاک اور کم از کم 81 زخمی ہوئے جبکہ یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ سال اسی عرصہ کے مقابلے میں امسال ہلاکتوں کی تعداد تقریباً چار گنا جبکہ زخمیوں کی تعداد دوگنا بڑھ گئی ہے۔