لبنان کی نصف سے زائد آبادی امداد کی مستحق ہے، یورپی یونین

ہفتہ 9 مئی 2026 09:41

برسلز (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 مئی2026ء) یورپی یونین کے حکام کے مطابق پچھلے دو ماہ سے زائد عرصے سے اسرائیل کی نئی جنگ کی زد میں آنے والے لبنان کی صورت حال خراب ہونے کے باعث اس کی نصف سے زائد آبادی امداد کی مستحق ہو چکی ہے۔العربیہ کے مطابق یورپی یونین کے حکام نے اس وقت کہی جب وہ جنگ بندی کے ماہ اپریل میں ہونے والے اعلان کے باوجود اسرائیلی بمباری کا ذکر کر رہے تھے۔

اس وقت تین ملین سے زیادہ لبنانی نقل مکانی اور دیگر جنگی وجوہ کی بنیاد پر امداد پر گزارا کر رہے ہیں۔ یہ تعداد لبنان کی کل آبادی کا نصف بنتی ہے۔ یورپی یونین کے کرائسس مینیجمنٹ چیف حدیہ لاہبیب لبنانی صدر جوزف عون کے ساتھ ملاقات کے بعد بیرو ت میں رپورٹرز سے گفتگو کر رہی تھیں۔انہوں نے کہا 2 مارچ جب سے جنگ شروع ہوئی ہے 27 یورپی ملکوں کے اتحاد یورپی یونین نے 100 ملین یورو کی امداد فراہم کی ہے۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں چھ جہازوں کے ذریعے امدادی سامان بھی بھیجا گیا ہے۔ ساتواں امدادی سامان لانے والا جہاز ہفتے کے روز لبنان پہنچ جائے گا۔واضح رہے 2 مارچ سے شروع کی گئی بمباری کی نئی جنگی لہر کے نتیجے میں 2700 لبنانی مارے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ دس لاکھ سے زائد لبنانی شہریوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔یورپی یونین کی عہدے دار نے کہا جنگ بندی کو ایک مکمل امن کی طرف بڑھانے کے لیے حوصلہ اور سیاسی خواہش کی ضرورت ہے۔ تاکہ جنگ کا سبب بننے والی اس کی بنیادی وجہ کو تلاش کیا جاسکے۔ اسرائیل اور لبنان کے حکام کے درمیان واشنگٹن میں امن ذاکرات کا تیسرا دور اگلے ہفتے میں متوقع ہے۔