Live Updates

پٹرول ڈیزل مزید مہنگا کرنے پر مشیراطلاعات خیبرپختونخواہ نے وفاق کو آڑے ہاتھوں لے لیا

تجربے کا ر ٹیم نے اپنا تجربہ استعمال کرتے ہوئے پٹرول رات کے اندھیرے میں مزید مہنگا کر دیا، ان کو شرم بھی نہیں آتی ان کا دل بھی غریبوں کے لیے نہیں دھڑکتا اور ڈاکہ بھی رات کے تاریکی میں ڈالا گیا؛ شفیع جان کا بیان

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 9 مئی 2026 15:09

پٹرول ڈیزل مزید مہنگا کرنے پر مشیراطلاعات خیبرپختونخواہ نے وفاق کو ..
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2026ء) ملک میں پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کرنے پر مشیراطلاعات خیبرپختونخواہ شفیع جان نے وفاقی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تجربے کا ر ٹیم نے اپنا تجربہ استعمال کرتے ہوئے پٹرول رات کے اندھیرے میں مزید مہنگا کر دیا، اس وقت آپ کی معلومات کے لیے مجودہ 17 سیٹوں کی حکومت پٹرول کے لیٹر پر 144 روپے صرف ٹیکس پاکستانی عوام کے جیب وصول کررہی ہے، (عمران خان کے حکومت میں پٹرول کی کل قیمت 150 روپے تھی) مطلب ان کے ٹریک ریکارڈ کے حساب سے ان کا وزیراعظم ڈاکوہے، ان کو شرم بھی نہیں آتی، ان کا دل بھی غریبوں کے لیے نہیں دھڑکتا اور ڈاکہ بھی رات کے تاریکی میں ڈالا گیا۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کو ریونیو اکٹھا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی اصل وجوہات سامنے آ گئی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے عوام فی لٹر ایندھن پر بھاری ٹیکس ادا کر رہے ہیں کیوں کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا ایک بڑا حصہ ٹیکسوں اور مختلف مارجنز کی صورت میں وصول کر رہی ہے، پٹرول کی اصل قیمت اس کی فروخت کی قیمت سے کہیں کم ہے، اسی طرح ڈیزل پر بھی بھاری ڈیوٹیز عائد ہیں۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں شامل ٹیکسز اور دیگر اخراجات نے اسے عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے، ٹیکسز کے بغیر پٹرول کی فی لٹر قیمت صرف 216 روپے 68 پیسے بنتی ہے، حکومت فی لٹر پٹرول پر مجموعی طور پر 198 روپے سے زائد کے ٹیکس وصول کر رہی ہے، قیمت میں 29 روپے فی لٹر پریمیم بھی شامل کیا گیا ہے، اسی طرح ڈیزل جو ٹرانسپورٹ اور زراعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس پر بھی ٹیکسوں کی بھرمار ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ ڈیزل کی فی لٹر قیمت میں 113 روپے 71 پیسے کے ٹیکس شامل ہیں، ٹیکسوں کے بغیر ڈیزل کی قیمت تقریباً 301 روپے بنتی ہے، ڈیزل پر 42 روپے 60 پیسے پٹرولیم لیوی اور 32 روپے 48 پیسے کسٹم ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے جب کہ قیمتوں میں کمپنیوں کے منافع اور دیگر لیویز کا حصہ بھی نمایاں ہے، ڈسٹری بیوشن مارجن کی مد میں کمپنیوں کو 7.87 روپے اور منافع کی مد میں 8.64 روپے دیے جا رہے ہیں، مال برداری کے لیے 7.25 روپے فی لٹر وصول کیے جا رہے ہیں، ماحولیاتی تحفظ کے نام پر ڈھائی روپے فی لٹر 'کلائمیٹ سپورٹ لیوی' بھی عوام کی جیب سے نکالی جا رہی ہے۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات