ملک بھر میں 5G کے باقاعدہ آغاز میں تاخیر کا خطرہ

ملک میں موبائل ٹاورز کی تعداد ضرورت سے بہت کم ہے، جو مستقبل میں 5G کوریج کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے، پی ٹی اے نے ٹاور فراہم کرنے والی کمپنیوں کیلئے سخت شرائط اور اہداف مقرر کرنے کی تجویز دیدی

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 9 مئی 2026 15:29

ملک بھر میں 5G کے باقاعدہ آغاز میں تاخیر کا خطرہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2026ء) ملک بھر میں 5G کے باقاعدہ اغاز میں تاخیر کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں 5G سروسز کے آغاز کی راہ میں انفراسٹرکچر کی کمی سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آئی ہے، ملک میں 5G ٹیکنالوجی کے بروقت آغاز کو یقینی بنانے کے لیے پی ٹی اے نے ٹیلی کام کمپنیوں اور ٹاور فراہم کرنے والے اداروں پر دباؤ بڑھا دیا ہے، کیوںکہ ملک میں موبائل ٹاورز کی تعداد ضرورت سے بہت کم ہے، جو مستقبل میں 5G کوریج کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ملک میں ٹاور لگانے کے لیے 15 کمپنیوں کے پاس لائسنس موجود ہیں، لیکن حیران کن طور پر ان میں سے اب تک صرف 9 کمپنیوں نے ملک بھر میں ٹاورز نصب کیے ہیں، ٹاورز کی تنصیب کی سست رفتار کی وجہ سے 5G سروسز کے ملک گیر آغاز میں غیر معمولی تاخیر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پی ٹی اے نے ٹاور فراہم کرنے والوں کے لیے سخت شرائط اور اہداف مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ ہر لائسنس ہولڈر کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ سرٹیفکیٹ ملنے کے پہلے سال کے اندر کم از کم 10 ٹاورز نصب کرے، لائسنس ملنے کے پانچ سال کے اندر ٹاورز کی تعداد بڑھا کر 50 تک پہنچانا لازمی ہوگی، پی ٹی اے نے اس منصوبے اور نئی شرائط کے حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز بشمول ٹیلی کام کمپنیوں اور متعلقہ اداروں سے رائے طلب کرلی ہے، تمام سٹیک ہولڈرز 18 مئی تک اپنا فیڈ بیک پی ٹی اے کو جمع کروا سکتے ہیں، مشاورت مکمل ہونے کے بعد ان شرائط کو حتمی شکل دے کر لائسنس کی پالیسی کا حصہ بنا دیا جائے گا۔