ہیٹی میں صنفی بنیاد پر تشددکے واقعات میں تشویشناک اضافہ، اقوام متحدہ رپورٹ

منگل 12 مئی 2026 09:12

اقوام متحدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 مئی2026ء) اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ہیٹی میں صنفی بنیاد پر تشدد، خصوصاً جنسی زیادتی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔شنہو ا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوسی ایچ اے ) کے مطابق رواں سال کے پہلے تین ماہ میں تقریباً 2 ہزار صنفی تشدد کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، یعنی اوسطاً روزانہ 21 کیسز سامنے آئے۔

رپورٹ کے مطابق 70 فیصد سے زائد واقعات ریپ پر مشتمل تھے، جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے، جب یہ شرح 49 فیصد تھی۔ بیشتر واقعات اجتماعی زیادتی کے تھے، جن میں مبینہ طور پر مسلح گروہ ملوث ہیں۔ متاثرین میں زیادہ تعداد خواتین اور کم عمر لڑکیوں کی ہے۔

(جاری ہے)

ادارے کے مطابق گزشتہ سال بھی ہیٹی میں صنفی تشدد کے 8 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جو 2024 کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ تھے۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے بحران کے باوجود متاثرین کے لیے امدادی اور حفاظتی خدمات شدید مالی قلت کا شکار ہیں۔ رواں سال درکار ڈیڑھ کروڑ ڈالر میں سے اب تک صرف 8 فیصد فنڈز موصول ہوئے ہیں۔فنڈز کی کمی کے باعث متاثرین کو جنسی حملے کے بعد انتہائی اہم 72 گھنٹوں کے اندر طبی امداد، نفسیاتی معاونت اور عارضی پناہ گاہوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

او سی ایچ اے کا کہنا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود بعض متاثرین کو طبی، نفسیاتی اور حفاظتی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم ضروریات موجودہ صلاحیت سے کہیں زیادہ ہیں۔اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار اداروں نے ہیٹی میں صحت، تحفظ اور نفسیاتی معاونت کے شعبوں کے لیے فوری طور پر مزید فنڈنگ بڑھانے پر زور دیا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جو تشدد سے زیادہ متاثر ہیں۔