مقبوضہ کشمیر میں منتخب حکومت کو اختیارات نہ دینے سے سیاسی اور انتظامی بحران گہرا ہوگیا

منگل 12 مئی 2026 14:56

نئی دلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 مئی2026ء) مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک بار پھر جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ منتخب حکومت کو اختیارات نہ دینے سے سیاسی اور انتظامی بحران مزید گہرا ہورہا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عمرعبداللہ نے نئی دلی میں بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ سے ملاقات کے دوران کہاکہ کاروباری قواعد، ٹیلی کام کنٹرول اور دیگر انتظامی معاملات منتخب حکومت کے دائرہ اختیار میں ہونے چاہئیں، نہ کہ غیر منتخب لیفٹیننٹ گورنر کے پاس۔

عمر عبداللہ نے مودی حکومت کے حالیہ فیصلے پر بھی اعتراض کیا جس کے تحت لیفٹیننٹ گورنر کو ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 2023 کے تحت انٹرنیٹ اورٹیلی کام سروسز کی معطلی اور پیغامات تک رسائی جیسے اختیارات دیے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ فون اور انٹرنیٹ کی بندش کے احکامات پہلے ہی لیفٹیننٹ گورنر کے زیر انتظام محکمہ داخلہ جاری کرتا ہے اور مزید اختیارات منتخب حکومت کی عملداری کو کمزور کرتے ہیں۔

عمر عبداللہ نے ریاستی حیثیت کی بحالی اور خطے کا بیوروکریٹک کنٹرول کم کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا۔سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ اقدامات سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں منتخب نمائندوں کے اختیارات مزید محدود ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ پابندیوں اور انتظامی کنٹرول پر بھی نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔