زمین کی زرعی حیثیت ختم ہونے پر کنسولیڈیشن کا مقصد ساقط ہو جاتا ہے،وفاقی آ ئینی عدالت

منگل 12 مئی 2026 14:47

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 مئی2026ء) وفاقی آ ئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ جب کسی زمین کی زرعی حیثیت ختم ہو کر وہ رہائشی اور تجارتی استعمال میں آ جائے تو کنسولیڈیشن آف ہولڈنگز کا بنیادی مقصد ختم ہو جاتا ہے اور ایسی صورت میں کنسولیڈیشن اسکیم کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالت نے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل بینچ کے تحت متعدد اپیلوں کی سماعت کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے 08 جولائی 2025 کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے تمام اپیلیں مسترد کر دیں۔

مقدمہ لاہور کے دیہاتوں کی زمینوں کی کنسولیڈیشن سے متعلق تھا۔ مختلف ادوار میں اس اسکیم کی منظوری اور بعد ازاں منسوخی کا سلسلہ جاری رہا، جس کے بعد بورڈ آف ریونیو پنجاب نے بھی کنسولیڈیشن اسکیم ختم کرنے کا فیصلہ کیا، جسے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا۔

(جاری ہے)

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ اتھارٹی نے ری مَینڈ آرڈر کی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے دوبارہ حقائق کا جائزہ لیا اور انہیں سنے بغیر فیصلے کیے گئے۔

دوسری جانب پنجاب حکومت نے کہا کہ زمین اب زرعی نہیں رہی بلکہ شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کا حصہ بن چکی ہے، اور اس پر لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت کارروائی جاری ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کنسولیڈیشن کا مقصد زرعی زمینوں کو بہتر اور منظم بنانا ہوتا ہے، تاہم جب زمین شہری اور تجارتی نوعیت اختیار کر لے تو اس مقصد کی قانونی بنیاد ختم ہو جاتی ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ زمین کے لاہور رنگ روڈ سے منسلک ہونے اور رہائشی و تجارتی تعمیرات کے باعث اس کی نوعیت مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ زمین کے حصول کا عمل لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت پہلے ہی شروع ہو چکا ہے، اس لیے کنسولیڈیشن کا عمل غیر مؤثر ہو جاتا ہے اور فریقین اپنے حقوق اسی قانون کے تحت حاصل کر سکتے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ تمام اپیلیں قانونی و زمینی حقائق کے مطابق قابلِ سماعت نہیں رہیں، لہٰذا انہیں مسترد کیا جاتا ہے۔