ہنٹا وائرس سے متاثرہ کروز شپ سے مسافروں کا انخلاء مکمل، ڈبلیو ایچ او

یو این منگل 12 مئی 2026 21:45

ہنٹا وائرس سے متاثرہ کروز شپ سے مسافروں کا انخلاء مکمل، ڈبلیو ایچ او

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 12 مئی 2026ء) بحر اوقیانوس میں ہنٹا وائرس سے متاثرہ جہاز کے تمام مسافروں کو جزائر کینیری کے شہر ٹینیریفے میں اتار لیا گیا ہے جبکہ متعدد لوگ خصوصی پروازوں کے ذریعے اپنے ممالک کو واپس چلے گئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس کارروائی کو 'یکجہتی کی جیت' قرار دیا ہے۔

یہ کارروائی سپین کے حکام کی قیادت میں انجام دی گئی جس میں ڈبلیو ایچ او، یورپی یونین، یورپی مرکز برائے انسداد امراض (ای سی ڈی سی) اور کئی ممالک نے تعاون کیا۔

بحر اوقیانوس میں سفر کے دوران اس جہاز پر ہنٹا وائرس پھیلا تھا جس کے نتیجے میں تین مسافروں کی موت واقع ہو گئی تھی۔ مجموعی طور پر نو مسافر اس بیماری سے متاثر ہوئے جن میں سے سات کے جسم میں میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

(جاری ہے)

ایک اور فرد کے ٹیسٹ کا نتیجہ غیرواضح آیا جس کی جانچ جاری ہے۔

ہینٹا وائرس سے متعلق ڈبلیو ایچ او کی معلوماتی دستاویز انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بیالس روزہ قرنطینہ

'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے ٹینیریفے میں مسافروں کے انخلا کے عمل کی نگرانی کی جن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بہترین انداز میں اور منصوبے کے مطابق انجام پائی۔

Tweet URL

انہوں نے سپین کی حکومت، یورپی شراکت داروں، ٹینیریفے کی مقامی انتظامیہ اور جہاز کے عملے کی جانب سے تعاون اور ہم آہنگی پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

مسافروں کے آخری گروہ آج خصوصی پروازوں کے ذریعے روانہ ہوئے جبکہ عملے کے 30 سے زیادہ اہلکار اور دو طبی کارکن اب بھی جہاز پر موجود ہیں جو نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم کی طرف روانہ ہو چکا ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' کے حکام نے بتایا ہے کہ بحری جہاز کے کسی مسافر کو عام پرواز کے ذریعے اس کے ملک نہیں بھیجا گیا۔ انہوں نے اپیل کی ہے کہ واپس پہنچنے والے مسافروں کی سخت نگرانی کے اقدامات کیے جائیں۔

ادارے نے انہیں 10 مئی سے 42 یوم تک الگ تھلگ رکھنے (قرنطینہ) کی ہدایت دی ہے کیونکہ وائرس کی علامات ظاہر ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔

وائرس کی طویل المدتی نگرانی

ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ اب یہ کارروائی طویل المدتی نگرانی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ تمام متعلقہ ممالک بین الاقوامی طبی ضوابط(آئی ایچ آر) کے ذریعے ہر ہفتے مسافروں اور عملے کی صحت سے متعلق تازہ معلومات فراہم کریں۔

سب کی صحت کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون جاری رہنا نہایت ضروری ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' میں وبائیات و تجزیات کے شعبے کے سربراہ آلیویئر لے پولین نے کہا ہے کہ فی الحال اس وائرس کا پھیلاؤ محدود ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں یا ہفتوں میں مزید مریض بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ ہنٹا وائرس اور اس کی مخصوص قسم اینڈیز وائرس کی علامات ظاہر ہونے کا دورانیہ طویل ہوتا ہے اور لوگ بہت بعد میں بھی بیمار ہو سکتے ہیں۔