نیروبی: نئے یو این دفتر کا سنگ بنیاد، افریقہ بنے گا عالمی تعاون کا مرکز

یو این منگل 12 مئی 2026 21:45

نیروبی: نئے یو این دفتر کا سنگ بنیاد، افریقہ بنے گا عالمی تعاون کا مرکز

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 12 مئی 2026ء) اقوامِ متحدہ نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں اپنے ہیڈکوارٹر کی توسیع کے ایک بڑے منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ افریقہ کو بین الاقوامی تعاون میں اہم مقام حاصل ہے۔

اس منصوبے کے تحت نئی دفتری عمارتوں کا سنگ بنیاد رکھنے کے لیے منعقدہ تقریب میں سیکرٹری جنرل کے علاوہ کینیا کے صدر ولیم روٹو نے بھی شرکت کی۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس منصوبے کے لیے 340 ملین ڈالر کی منظوری دی ہے جو ادارے کی 80 سالہ تاریخ میں براعظم افریقہ میں اس کی جانب سے کی جانے والی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔

(جاری ہے)

دفتر میں توسیع کے بعد نیروبی کو نیویارک اور جنیوا کے ساتھ کثیرالفریقی سفارت کاری کے ایک بڑے عالمی مرکز کی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔

یہ پیش رفت اقوام متحدہ کی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ادارہ جاتی کام کو ان خطوں کے قریب لانا ہے جو عالمی مسائل سے کہیں زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو ان لوگوں کے قریب ہونا چاہیے جن کی وہ خدمت کرتا ہے۔

کینیا کی فراخدلانہ معاونت

انتونیو گوتیرش نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے لیے کینیا کی مستقل حمایت کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ نیروبی کے علاقے گیگیری میں قائم اقوام متحدہ کا دفتر 140 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے جو کینیا کی حکومت نے عطیہ کی تھی۔ یہ دنیا بھر میں کسی بھی میزبان ملک کی جانب سے ادارے کو دیا جانے والا سب سے بڑا زمینی عطیہ ہے۔

1970 کی دہائی میں یہ دفتر اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام(یونیپ) اور ادارہ برائے مساکن (یو این ہیبیٹیٹ) کے مرکز کے طور پر قائم کیا گیا تھا جو اب 160 سے زیادہ ممالک میں ادارے کی سرگرمیوں میں معاونت کرتا ہے۔

افریقہ اور عدم مساوات

سیکریٹری جنرل نے براعظم افریقہ کو درپیش عدم مساوات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ بہت سے افریقی ممالک کو ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شرح سود پر قرض لینا پڑتا ہے۔

انہوں نے عالمی انتظام میں تاریخی عدم مساوات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب اہم بین الاقوامی ادارے قائم کیے گئے تھے تو افریقی ممالک عملاً اس عمل سے باہر تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ انصاف اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک افریقہ کو سلامتی کونسل میں مستقل نمائندگی حاصل نہ ہو جائے۔ انہوں نے سیاسی اور مالیاتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا تاکہ وہ موجودہ عالمی حالات سے ہم آہنگ ہوں۔

ترقی پذیر دنیا میں یو این ہیڈ کوارٹر

اقوام متحدہ میں کانفرنسوں سے متعلق سہولیات مہیا کرنے کے منصوبے کے نگران اعلیٰ اور بارباڈوز کے سفیر ولیم الیگزینڈر میکڈونلڈ نے رکن ممالک کی جانب سے کہا کہ یہ توسیع نہ صرف ضروری تھی بلکہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھی۔ نئی اور بہتر سہولیات خاص طور پر چھوٹے اور پسماندہ ممالک کو عالمی فیصلوں میں زیادہ موثر انداز میں شرکت کا موقع فراہم کریں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جنوبی دنیا میں اقوام متحدہ کے واحد ہیڈکوارٹر کی حیثیت سے نیروبی ایک منفرد پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جہاں محروم طبقات کی آواز کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ نئی عمارت نیویارک، جنیوا اور ویانا میں اقوام متحدہ کے مراکز جیسی سہولیات فراہم کرے گی، اس کی موجودگی میں کثیرالفریقی تعاون مضبوط ہو گا اور زیادہ جامع نتائج سامنے آئیں گے۔

ماحول دوست تعمیرات

نیروبی میں اقوام متحدہ کی ان نئی عمارتوں کو اس انداز میں تیار کیا جائے گا کہ ان سے کاربن کا اخراج نہیں ہو گا۔ عمارتوں میں شمسی توانائی استعمال ہو گی اور توسیع شدہ ہیڈکوارٹر 2030 تک کاربن کے اخراج سے متعلق نیٹ زیرو ہدف سے ہم آہنگ ہو جائے گا۔

اس منصوبے میں ہزاروں مقامی درخت اگانے، سہولیات کے استعمال اور رسائی کو بہتر بنانے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں، جو اقوام متحدہ کے وسیع تر ماحولیاتی اہداف سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔