Live Updates

ایران یورینیم افزودگی 100فیصد روکے گا، ایران سے نیوکلیئر ڈسٹ بھی حاصل کریں گے

امریکا کو کسی معاہدے کی طرف تیزی سے بڑھنے کی ضرورت نہیں، ہمارے پاس بحری ناکہ بندی موجود ہے۔ صدر ٹرمپ کا بیان

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 12 مئی 2026 20:54

ایران یورینیم افزودگی 100فیصد روکے گا، ایران سے نیوکلیئر ڈسٹ بھی حاصل ..
واشنگٹن (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 12 مئی 2026ء ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی سوفیصد روکے گا، ایران سے نیوکلیئر ڈسٹ بھی حاصل کریں گے۔میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران یورینیم افزودگی 100فیصد روکے گا، یقین ہے کہ ایران یورینیم افزودگی بند کردے گا، ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کسی بھی کوشش کو ترک کردے گا۔

ایرانی حکام سے براہ راست بات چیت کرتے رہے ہیں، ایران سے نیوکلیئر ڈسٹ بھی حاصل کریں گے، امریکا کو کسی معاہدے کی طرف تیزی سے بڑھنے کی ضرورت نہیں، ہم کسی بھی چیز میں جلدی نہیں کریں گے ، ہمارے پاس ناکہ بندی ہے۔ مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ رواں ہفتے کے آخر میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے اور اس دوران تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔

(جاری ہے)

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اپنے بیان میں اس یقین کا اعادہ کیا کہ مستقبل قریب میں تائیوان کی حیثیت پر چین کے ساتھ تنازعہ کا امکان نہیں ہے۔ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹرمپ نے وائٹ ہاس میں صحافیوں کو بتایا کہ میں صدر شی جن پنگ کے ساتھ اس پر بات چیت کرنے جا رہا ہوں۔ صدر شی چاہیں گے کہ ہم یہ نہ کریں لیکن میں اس پر بحث کروں گا۔

یہ ان بہت سی چیزوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں میں بات کروں گا۔ دوسری جانب امریکی وزیر جنگ نے سینیٹ کمیٹی کو اپنے بیان میں بتایا کہ ایران سے جنگ جیت رہے ہیں ہم نے ہر محاذ پر کامیابی حاصل کی ، ایران اپنے عسکری نقصان سے واقف ہے اسی لئے مذاکرات کی ٹیبل پر آرہا ہے، امریکا ایران تنازع کا حل صدر ٹرمپ کی شرائط پر ہوگا، ہمارے شرائط پر عملدرآمد کرانے کیلئے تمام ضروری جنگی صلاحیتیں موجود ہیں۔

دوسری جانب وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا سے مذاکرات کیلئے جنگ بندی اور ناکہ بندی ختم کرنا بنیادی شرائط ہیں۔ امریکا حقیقی مذاکرات کی بجائے مکمل ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کررہا ہے۔ امریکی قیادت کا رویہ ایران پر اپنی مرضی مسلط کرنا ہے، آبنائے ہرمز کی بندش کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے، بحری ناکہ بندی بین الاقوامی قانون کے تحت اعلان جنگ ہے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات