Live Updates

امریکا حقیقی مذاکرات کی بجائے مکمل ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہا ہے

آبنائے ہرمز کی بندش کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے، بحری ناکہ بندی بین الاقوامی قانون کے تحت اعلان جنگ ہے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 12 مئی 2026 20:41

امریکا حقیقی مذاکرات کی بجائے مکمل ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہا ہے
واشنگٹن (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 12 مئی 2026ء ) ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکاکی بحری ناکہ بندی بین الاقوامی قانون کے تحت اعلان جنگ ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا سے مذاکرات کیلئے جنگ بندی اور ناکہ بندی ختم کرنا بنیادی شرائط ہیں۔ امریکا حقیقی مذاکرات کی بجائے مکمل ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کررہا ہے۔

امریکی قیادت کا رویہ ایران پر اپنی مرضی مسلط کرنا ہے، آبنائے ہرمز کی بندش کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے، بحری ناکہ بندی بین الاقوامی قانون کے تحت اعلان جنگ ہے۔ اسی طرح چین میں ایرانی سفیر عبدالرضا رحمانی نے ایران چین دوطرفہ تعلقات سے متعلق سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا دباؤ ڈال کرچین کا مئوقف تہران کے خلاف تبدیل نہیں کرسکتا، دونوں قدیم تہذیبوں کے تعلقات انتہائی مضبوط ہیں۔

(جاری ہے)

دوسری جانب امریکی وزیر جنگ نے سینیٹ کمیٹی کو اپنے بیان میں بتایا کہ ایران سے جنگ جیت رہے ہیں ہم نے ہر محاذ پر کامیابی حاصل کی ، ایران اپنے عسکری نقصان سے واقف ہے اسی لئے مذاکرات کی ٹیبل پر آرہا ہے، امریکا ایران تنازع کا حل صدر ٹرمپ کی شرائط پر ہوگا، ہمارے شرائط پر عملدرآمد کرانے کیلئے تمام ضروری جنگی صلاحیتیں موجود ہیں۔مزید برآں ایران کی پارلیمانی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے دھمکی دی ہے کہ نئے امریکی و اسرائیلی حملے کی صورت میں ایران کے ممکنہ آپشنز میں سے ایک یورینیئم کی 90 فیصد افزودگی بھی ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ اس 90 فیصد یورینیئم افزودگی کے ممکنہ آپشنز پر پارلیمان میں جائزہ لیں گے۔ اس سے قبل اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف نے کہا تھا کہ 14 نکاتی تجاویز میں درج ایرانی عوام کے حقوق قبول کرنے کے سوا کوئی متبادل نہیں۔ اپنے بیان میں باقر قالیباف نے کہا تھا کہ کوئی بھی دوسرا راستہ مکمل طور پر غیر نتیجہ خیز ہو گا، ایک کے بعد دوسری ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جتنا زیادہ اس معاملے کو تاخیر کا شکار کیا جائے گا، امریکی ٹیکس دہندگان کو اتنی ہی زیادہ قیمت چکانا پڑے گی۔ 
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات