سوڈان خانہ جنگی: ڈرون حملے بیشتر شہری ہلاکتوں کی وجہ، وولکر ترک
یو این
منگل 12 مئی 2026
21:45
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 12 مئی 2026ء) سوڈان کی جنگ میں رواں سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران شہریوں کی 80 فیصد سے زیادہ ہلاکتیں ڈرون حملوں میں ہوئیں جن میں کم از کم 880 افراد مارے گئے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ ڈرون جنگ میں تیزی اس تنازع کو مزید خونریز بنا سکتی ہے۔
ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ جنگ میں ڈرون پر بڑھتے ہوئے انحصار کے باعث برسات کے موسم میں بھی لڑائی بلا تعطل جاری رہنے کا خدشہ ہے جبکہ ماضی میں بارشوں کے دوران زمینی عسکری کارروائیوں میں قدرے کمی آ جاتی تھی۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں تشدد مزید پھیل سکتا ہے کیونکہ متحارب فریق بدلتی ہوئی جنگی صورتحال میں مزید علاقوں پر قبضہ کرنے یا اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
(جاری ہے)
بازاروں اور ہسپتالوں پر حملے
جنوری سے اپریل کے درمیان ڈرون حملوں سے ہونے والی بیشتر شہری ہلاکتیں کردفان میں ریکارڈ کی گئیں۔
ایسا تازہ ترین واقعہ 8 مئی کو پیش آیا جب القوز اور شمالی کردفان کے قریب الابیض میں ہونے والے حملوں میں مبینہ طور پر 26 شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔سوڈانی فوج (ایس اے ایف) اور اس کے مخالف عسکری دھڑے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے مابین جنگ میں فریقین بارہا شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے آئے ہیں۔ ایسے کم از کم 28 حملے بازاروں میں کیے گئے۔
صرف چار ماہ کے دوران کم از کم 12 مرتبہ طبی مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ نتیجتاً، کئی ہسپتال اور بنیادی مراکز صحت بند ہو گئے جس کے باعث لوگوں کو علاج کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑ رہے ہیں یا وہ علاج سے محروم ہونے لگے ہیں۔
ایندھن کے ذخائر اور رسد کے راستے بھی حالیہ ہفتوں میں بار بار حملوں کی زد میں آئے ہیں۔
بدترین انسانی بحران کا خدشہ
متحارب فریقین کی جانب سے ڈرون کا استعمال اب صرف کردفان اور دارفور تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ نیل ازرق، نیل ابیض اور دارالحکومت خرطوم تک پھیل چکا ہے۔
4 مئی کو خرطوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کے باعث تمام پروازیں معطل ہو گئیں جبکہ 28 اپریل سے 5 مئی کے درمیان خرطوم اور اس کے جڑواں شہر امدرمان میں بھی متعدد ڈرون حملے کیے گئے۔وولکر ترک نے کہا ہے کہ شدید نوعیت کے ان حملوں نے خرطوم میں گزشتہ چند ماہ کے امن کو غارت کر دیا ہے۔ نقل مکانی کرنے والی شہری بڑی تعداد میں دارالحکومت واپس آ رہے تھے جن میں اب یہ خوف پیدا ہو گیا ہے کہ خرطوم ایک مرتبہ پھر جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ کردفان میں لڑائی شدت اختیار کرنے سے شہریوں کو انتقامی حملوں اور مزید بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بڑھتا ہوا تشدد امدادی کارروائیوں میں بھی خلل ڈالے گا۔ ملک کے بیشتر حصے، خصوصاً کردفان، قحط اور شدید غذائی قلت کے بڑھتے ہوئے خطرے سے دوچار ہیں۔ خلیجی بحران کے باعث کھاد کی ترسیل میں متوقع تاخیر اور قلت اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
عالمی برادری سے مطالبہ
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ سوڈان میں متحارب فریقین کو بیرون ملک سے اسلحہ، خصوصاً جدید ڈرون طیاروں کی فراہمی روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ اگر شہریوں اور شہری تنصیبات پر ڈرون حملوں کو بلا روک و ٹوک جاری رہنے دیا گیا تو یہ تشدد مزید بڑھے گا اور دونوں فریق اس طرز جنگ کو معمول کے حربے کے طور پر اپنانے لگیں گے۔
ہائی کمشنر نے متحارب فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور انہیں جنگ زدہ علاقوں سے محفوظ انخلا کی سہولت فراہم کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو انتقامی کارروائیوں، ماورائے عدالت قتل، جنسی تشدد، ناجائز گرفتاریوں اور اغوا جیسے جرائم سے تحفظ ملنا چاہیے۔
مزید اہم خبریں
-
منشیات کے مقدمات میں انمول عرف پنکی کا نام کئی مرتبہ سامنے آیا لیکن پولیس نے گرفتاری کی کوشش نہیں کی
-
پنجاب پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر 7 کروڑ روپے کی رشوت کے بدلے انمول عرف پنکی کو چھوڑنے کا انکشاف
-
سوڈان خانہ جنگی: ڈرون حملے بیشتر شہری ہلاکتوں کی وجہ، وولکر ترک
-
ہنٹا وائرس: متاثرہ کروز شپ میں نو مریضوں کی تصدیق
-
تحفظ جنگلات پر یو این فورم کا نیو یارک میں اجلاس شروع
-
نیروبی: نئے یو این دفتر کا سنگ بنیاد، افریقہ بنے گا عالمی تعاون کا مرکز
-
ہنٹا وائرس سے متاثرہ کروز شپ سے مسافروں کا انخلاء مکمل، ڈبلیو ایچ او
-
14 سال کی عمر میں گھرسے ماڈل بننے کیلئے نکلی، منشیات فروش وکیل سے شادی کی
-
عدالت نے 9مئی واقعات کیس میں پی ٹی آئی رہنما سمیت 74 ملزمان بری کر دیا
-
ایران یورینیم افزودگی 100فیصد روکے گا، ایران سے نیوکلیئر ڈسٹ بھی حاصل کریں گے
-
امریکا حقیقی مذاکرات کی بجائے مکمل ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہا ہے
-
پاکستان کا روس سے تیل اور گیس خریدنے کا فیصلہ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.