منشیات کے مقدمات میں انمول عرف پنکی کا نام کئی مرتبہ سامنے آیا لیکن پولیس نے گرفتاری کی کوشش نہیں کی

حالیہ گرفتاری بھی حساس اداروں کی کوششوں سے عمل میں آئی، پولیس نے ملزمہ کو عدالت میں پیش کیا تو نہ کوِئی شواہد پیش کیے نہ تحویل میں لینے کی کوئی درخواست کی، نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ

muhammad ali محمد علی منگل 12 مئی 2026 22:25

منشیات کے مقدمات میں انمول عرف پنکی کا نام کئی مرتبہ سامنے آیا لیکن ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2026ء) انمول عرف پنکی کیس سے متعلق پولیس کے کردار پر کئی سوالات اٹھ گئے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی کوکین ڈیلر پنکی سے متعلق ہوشربا انکشافات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
نجی ٹی وی چینل اےآروائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق منشیات کے کیس میں گرفتار ہونے والے کئی ملزمان کی جانب سے انمول عرف پنکی کا نام لیا گیا لیکن پولیس کی جانب سے بظاہر ملزمہ کو گرفتار کرنے کی کوئی کوشش نہ کی گئی۔

حالیہ گرفتاری بھی حساس اداروں کی کوششوں سے عمل میں آئی۔ حساس اداروں نے پولیس کو مطلع کر کے انمول پنکی کو گرفتار کروایا۔ گرفتاری کے بعد ملزمہ کے قبضےسے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ تاہم گرفتاری کے بعد پولیس نے 2 مقدمات درج کیے اور پھر اگلی ہی صبح ملزمہ کو عدالت پیش کر دیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے ملزمہ کو عدالت میں پیش کیا تو نہ کوِئی شواہد پیش کیے نہ تحویل میں لینے کی کوئی درخواست کی۔

اے آر وائی نیوز کی ایک اور رپورٹ کے مطابق مطابق انمول عرف پنکی 14 سال کی عمر میں گھرسے ماڈل بننے کیلئے نکلی۔ گھر سے نکلنے کے بعد پنکی نے منشیات فروش وکیل سے شادی کی اور پھر منشیات فروشی کے دھندے کا حصہ بنی۔ منشیات فروش وکیل سے طلاق کے بعد پنکی نے پولیس افسر سے شادی کی۔ پنکی نے منشیاتی فروشی میں تجربہ حاصل کرنے کے بعد 3 بھائیوں کے ساتھ مل کر منشیات کا اپنا کاروبار شروع کیا۔

پنکی کی جانب سے لاہور سے کراچی منشیات منگوائی جاتی تھی۔ پنکی کو 5سال قبل پنجاب پولیس کی جانب سے گرفتار کرنے کے بعدمبینہ طور 7 کروڑ روپے کی رشوت کے بدلے چھوڑ دینے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی خاتون کوکین ڈیلر کہلانے والی انمول عرف پنکی، جو اپنی چلتی پھرتی لیب کی وجہ سے مشہور تھی، گرفتاری سے قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں کا تمسخر اڑاتی رہی، ملزمہ کے قبضے سے ملنے والے شواہد اور بیانات نے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیئے ہیں۔

ملزمہ نے پولیس اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کی عقل گھٹنوں میں ہے، جس دن دماغ سے سوچو گے تو میری طرح برانڈ بن جاؤ گے، جس کا نیٹ ورک سمجھنا پولیس کے بس کی بات نہیں، میرے بندے دھڑلے سے کام کر رہے ہیں، اٹھا سکتے ہو تو اٹھا لو، اکاؤنٹ کھلا ہے اور سروس 24 گھنٹے آن رہتی ہے، ہم نے پورے کراچی میں اندھیر ڈالا ہوا ہے، جو کرنا ہے کر لو، پتہ نہیں کہاں کہاں سے آجاتے ہیں کہ پنکی کو پکڑیں گے، افسران ریٹائرمنٹ کے بعد مجھے فون کر کے بتاتے ہیں کہ ہم تمہیں نہیں پکڑ پائے۔

یاد رہے کہ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقہ گارڈن میں پولیس اور حساس ادارے نے ایک مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے منشیات کی دنیا کی ایک بڑی ملزمہ کو گرفتار کیا، انمول عرف پنکی نامی یہ خاتون ناصرف منشیات سپلائی کرتی تھی بلکہ پاکستان کی سب سے بڑی کوکین میکر کے طور پر اپنا پروڈکشن یونٹ بھی چلا رہی تھی، گارڈن پولیس نے وفاقی حساس ادارے کی نشان دہی پر ایک کامیاب چھاپہ مار کر انتہائی مطلوب ملزمہ انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا۔

بعد ازاں گارڈن پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والی پاکستان کی کوکین سپلائر انمول عرف پنکی کو تفتیشی حکام نے عدالت میں پیش کیا، تاہم اس موقع پر پولیس کی جانب سے ملزمہ کے ساتھ کیے جانے والے برتاؤ نے دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیا کیوں کہ سنگین جرم میں ملوث اور انتہائی مطلوب ملزمہ کو عدالت میں پیشی کے دوران ہتھکڑی نہیں لگائی گئی تھی، عدالت کے احاطے میں کوکین ڈیلر پنکی اعتماد کے ساتھ آگے آگے چلتی رہی، جبکہ تفتیشی افسر اس کے پیچھے پیچھے چل کر ملزملہ کو راستہ بتاتے ہوئے نظر آیا۔