Live Updates

عدالت نے 9مئی واقعات کیس میں پی ٹی آئی رہنما سمیت 74 ملزمان بری کر دیا

ملزمان کے خلاف استغاثہ کا کیس محض زبانی، غیر ثابت شدہ الزامات پر مبنی ہے، کوئی چشم دید گواہ نہیں، اس مقدمے میں ٹرائل چلانا وقت کا ضیاع ہوگا، عدالتی فیصلہ

muhammad ali محمد علی منگل 12 مئی 2026 20:56

عدالت نے 9مئی واقعات کیس میں پی ٹی آئی رہنما سمیت 74 ملزمان بری کر دیا
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2026ء) عدالت نے 9مئی واقعات کیس میں پی ٹی آئی رہنما سمیت 74 ملزمان بری کرتے ہوئےقرار دیا کہ ملزمان کے خلاف استغاثہ کا کیس محض زبانی، غیر ثابت شدہ الزامات پر مبنی ہے، کوئی چشم دید گواہ نہیں، اس مقدمے میں ٹرائل چلانا وقت کا ضیاع ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق 9 مئی واقعات کے کیسز کے سلسلے میں تحریک انصاف کو بڑا عدالتی ریلیف ملا ہے۔

پشاور کی سیشن کورٹ نے 10مئی 2023ء احتجاج کیس میں پی ٹی آئی کے رہنما عرفان سلیم سمیت 74ملزمان کو بری کر دیا۔ ایڈیشنل سیشن جج فراز احمد نے کیس کی سماعت کے بعد تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو ضابطہ فوجداری کے دفعہ 265کے تحت مقدمے سے بری کیا جاتا ہے، مقدمے میں ملزمان براہ راست نامزد نہیں ہے، تفتیش کے دوران ان کو مقدمے میں نامزد کیا گیا، ملزمان کا کوئی شناختی پریڈ نہیں ہوا۔

(جاری ہے)

تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ملزمان کے خلاف استغاثہ کا کیس محض زبانی اور غیر ثابت شدہ الزامات پر مبنی ہے، مقدمے میں کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے، اس مقدمے میں ٹرائل چلانا وقت کا ضیاع ہوگا۔عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق مقتولین کے ورثا بھی ملزمان کے خلاف ٹرائل چلانا نہیں چاہتے، لہذا ملزمان کو کیس سے بری کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل 9 مئی واقعات کے 3سال مکمل ہونے پر سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی 2023 سے 2026 تک حاصل کیا ہوا؟ آج سے تین سال پہلے عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتار کیا گیا۔

اس گرفتاری کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا اور عمران خان 2 دن بعد رہا کر دیئے گئے۔ لیکن ان دو دنوں میں پاکستان کی سیاست اور جمہوری نظام میں ایک بھونچال آ گیا اور زلزلے کے ایسے جھٹکے شروع ہوئے جو آج تک نہیں رک رہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پر کریک ڈاؤن شروع ہوا جس میں کم سے کم تحریک انصاف کے 50 ہزار لوگ گرفتار ہوئے، اور آج بھی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور تور پھوڑ کی گئ۔ کاروبار تباہ ہو گئے۔ ورکرز اور پارلیمان کے ممبرز کے ساتھ وہ سلوک ہوا جس کی کوئی قانون اجازت نہیں دیتا۔ الیکشن ملتوی کئے گئے اور آئین کا تقاضہ بھی پورا نہیں ہوا۔ عمران خان کے نام اور تصویر پر پابندی لگ گئی۔پارٹی سے الیکشن کا نشان چھن گیا۔ 8 فروری 2024 کو عوام نے جو ووٹ ڈالے وہ 9 فروری کو فارم 47 کی نظر ہو گئے ۔

26ویں اور 27ویں ترمیم کے ذریعے عدالتوں کی آزادی پر قدغن لگا دی گئ۔ صحافیوں پر شدید دباؤ ڈال کر میڈیا کی آزادی کو پامال کر دیا گیا۔ جمہوری نظام کو قابو کرنے کی یہ پالیسی آج بھی جاری ہے۔ لیکن حاصل کیا ہوا؟ عوام میں فارم 47 کی حکومت آج بھی اتنی ہی غیر مقبول ہے جتنی 8 فروری 2024 کو تھی۔ بھارتی جارحیت کے خلاف شاندار کامیابی اور ایران جنگ میں ثالثی کے کردار پر عالمی پذیرائی کے باوجود نہ ملک میں سیاسی استحکام آیا نہ معاشی بہتری نظر آئی۔

سرمایہ کاری تاریخ کی کم ترین سطح پر، اربوں ڈالر، وزیر داخلہ کے مطابق، ملک سے نکل گئے، غربت اور امیر غریب کے فرق میں خطرناک حد تک اضافہ، برآمدات میں کمی اور دہشتگردی میں اضافہ۔گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے، یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہیں۔ ایک قومی سوچ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ پالیسی جس کے ثمرات میں ناکامیاں نمایاں ہوں، اس کو تبدیل کیا جائے۔

ملک کی کامیابی کا راز اندرونی اتحاد میں ہے۔ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور سب سے مقبول لیڈر کے ساتھ بیٹھے بغیر یہ ممکن نہیں۔ تحریک انصاف پر بھی لازم ہے کہ حکومت کی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ نہ بیٹھنے کی غلط پالیسی تبدیل کرے۔ اس ملک کی بقا اور اس کے عوام کی خوشحالی کسی بھی شخص، ادارے یا سیاسی پارٹی سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ خدا کرے کہ میرے ارض پاک پر اترے، وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات