تحفظ جنگلات پر یو این فورم کا نیو یارک میں اجلاس شروع

یو این منگل 12 مئی 2026 21:45

تحفظ جنگلات پر یو این فورم کا نیو یارک میں اجلاس شروع

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 12 مئی 2026ء) جنگلات سے متعلق اقوام متحدہ کے فورم کا 21 واں اجلاس سوموار کو نیویارک میں شروع ہو گیا ہے جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمائندے تحفظ جنگلات سے متعلق بہتر حکمت عملی کی تیاری اور طے شدہ عالمی وعدوں پر عملدرآمد تیز کرنے کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔

جمعہ تک جاری رہنے والے اجلاس میں رکن ممالک، ماہرین، بین الاقوامی اور علاقائی تنظیمیں، سماجی گروہ، سول سوسائٹی، قدیمی مقامی برادریاں، سائنس دان اور نجی شعبے کے نمائندے جنگلات سے متعلق علم و تجربات کا تبادلہ کریں گے، باہمی اعتماد کو فروغ دیں گے اور نئے شراکتی روابط قائم کریں گے۔

اجلاس کے اختتام پر اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل ایک مختصر مگر عملی نوعیت کی قرارداد منظور کرے گی۔

(جاری ہے)

ایک ہی سکے کے دو رخ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسان کے لیے درختوں اور جنگلات کے بغیر سانس لینا ممکن نہیں۔ دنیا کی نصف سے زیادہ معیشت فطرت پر انحصار کرتی ہے۔

کم از کم تین کروڑ 30 لاکھ ملازمتیں جنگلاتی شعبے سے وابستہ ہیں جو ایک ارب 60 کروڑ افراد کے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ یہ واضح ثبوت ہے کہ جنگلات کا تحفظ دنیا کے بنیادی مفاد میں ہے مگر افسوسناک طور سے انسان انہیں تباہ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگلات کے تحفظ سے متعلق بحث کو اکثر اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے جیسے ماحولیاتی تحفظ اور معاشی ترقی ایک دوسرے کی ضد ہوں حالانکہ حقیقت میں یہ ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ اس معاملے میں قدیمی مقامی لوگوں کے قائدانہ کردار کو تسلیم کیا جائے اور ان کے علم و تجربے کی قدر کی جائے کیونکہ دنیا کے تقریباً 80 فیصد حیاتیاتی تنوع کا تحفظ یا انتظام انہی لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کی کوششوں کو مزید مضبوط بنانا اس سمت میں ایک اہم ابتدائی قدم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحفظ جنگلات کے حوالے سے عالمی معاہدوں کو عملی نتائج میں تبدیل کرنا بھی ضروری ہے۔

اس سلسلے میں وسائل کو جمع کرنا اور شراکت داریوں کو مضبوط بنانا ہو گا۔

© Unsplash/Marita Kavelashvili جارجیا کے بلند پہاڑوں پر واقع جنگلات۔

پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر اثاثہ

فورم سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے شعبہ اقتصادی و سماجی امور میں پالیسی رابطہ کاری کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل بورگ شینڈ چائر نے کہا کہ یہ اجلاس ایسے وقت ہو رہا ہے جب دنیا شدید غیر یقینی صورتحال اور بحرانوں سے دوچار ہے۔ ان میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات، حیاتیاتی تنوع میں کمی، ارضی انحطاط، غربت اور سماجی و معاشی کمزوریاں شامل ہیں جبکہ پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کی جانب پیش رفت غیر متوازن اور ناکافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگلات صرف قیمتی ماحولیاتی نظام ہی نہیں بلکہ پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر قدرتی اثاثے بھی ہیں۔ یہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی لانے اور ان سے مطابقت پیدا کرنے، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، آبی وسائل کے انتظام، زمین کی بحالی، غذائی تحفظ، روزگار، توانائی کے تحفظ اور مضبوط معیشتوں کی تعمیر میں براہ راست کردار ادا کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ موجودہ مسائل کی سنگینی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ صرف وعدوں اور اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے سیاسی عزم کو مضبوط بنانا، موثر شراکت داریاں قائم کرنا اور ایسے اداروں اور نظام کی مستقل حمایت ضروری ہے جو عالمی اہداف کو زمینی حقائق میں بدلنے میں مدد دیتے ہیں۔

UN News/Daniel Dickinson جاپان کے جنوب مغرب میں واقع ایک جنگل۔

عالمی اہداف پر پیش رفت

فورم کے آغاز پر اقوام متحدہ نے عالمی جنگلاتی اہداف سے متعلق اپنی تازہ ترین رپورٹ بھی جاری کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے اگرچہ تحفظ جنگلات کے معاملے میں پیش رفت بھی ہوئی ہے لیکن یہ 2017 سے 2030 تک تزویراتی جنگلاتی منصوبے کے چھ بنیادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں۔

2015 سے 2025 کے درمیان دنیا بھر میں جنگلات کے رقبے میں چار کروڑ ہیکٹر سے زیادہ کمی آئی جبکہ پائیدار جنگلاتی انتظام کے لیے درکار مالی وسائل اب بھی ضرورت سے کہیں کم ہیں۔

تاہم، مختلف ممالک بہتری کے لیے اصلاحات بھی متعارف کرا رہے ہیں، جنگلات کی بحالی کی کوششوں میں اضافہ کر رہے ہیں، جنگلاتی نظم و نسق کو بہتر بنا رہے ہیں اور باہمی تعاون کو وسعت دے رہے ہیں۔

رپورٹ میں ان اہداف پر عملدرآمد تیز کرنے کے لیے کئی طریقے تجویز کیے گئے ہیں جن میں جنگلات کی کٹائی روکنا، تباہ شدہ زمینوں کی بحالی، جنگلات کے رقبے میں محفوظ اور پائیدار انداز میں منظم اضافہ، جنگلات سے متعلق انتظام کو مضبوط بنانا، مالی خلا کو دور کرنا اور جدید مالیاتی نظام متعارف کرانا شامل ہے۔

رپورٹ کے اہم نکات

  • محفوظ علاقوں، طویل المدتی جنگلاتی منصوبہ بندی اور نگرانی کے نظام میں پیش رفت ہوئی مگر مجموعی ترقی غیر مساوی رہی۔
  • جنگلات سے متعلق 26 میں سے 7 اہداف بڑی حد تک حاصل کر لیے گئے، 17 پر جزوی پیش رفت ہوئی جبکہ دو اہداف (جنگلات کے خاتمے کو روکنا اور جنگلات پر انحصار کرنے والی آبادی میں شدید غربت کا خاتمہ کرنا) پر قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی۔

  • زمین کے استعمال میں تبدیلی، موسمیاتی اثرات، جنگلاتی آگ، کیڑے مکوڑوں اور غیر قانونی سرگرمیوں جیسے عوامل اب بھی جنگلات کے لیے مستقل خطرہ ہیں۔
  • تحفظ جنگلات کے لیے جدید مالیاتی ذرائع، مضبوط ادارے اور مختلف شعبوں کے درمیان تعاون ناگزیر ہیں۔
  • حکومتوں اور مقامی لوگوں کی قیادت میں کیے گئے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ اگر پرعزم کوششیں کی جائیں تو پیش رفت کو تیز کیا جا سکتا ہے۔