ورکر ویلفیئر بورڈ KP نے فیکٹری مزدوروں کے بچوں کے 20 کروڑ اسکالرشپ روک لیے، کامسیٹس کے 300 طلبہ کا مستقبل داؤ پر

صوبے کی تعلیمی ایمرجنسی بے نقاب، یونیورسٹی انتظامیہ مزدور بچوں کو اپنے وسائل سے کھانا دینے پر مجبور

Zeeshan Haider ذیشان حیدر بدھ 13 مئی 2026 18:24

ورکر ویلفیئر بورڈ KP نے فیکٹری مزدوروں کے بچوں کے 20 کروڑ اسکالرشپ روک ..
ایبٹ آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2026ء) – ورکر ویلفیئر بورڈ خیبرپختونخوا کی مبینہ غفلت اور تاخیری حربوں کے باعث کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد، ایبٹ آباد کیمپس میں زیرِ تعلیم فیکٹری مزدوروں کے 300 سے زائد بچوں کا تعلیمی مستقبل شدید خطرے میں پڑ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ورکر ویلفیئر بورڈ کے ذمے کامسیٹس ایبٹ آباد کے 20 کروڑ روپے کے اسکالرشپ فنڈز گزشتہ کئی ماہ سے واجب الادا ہیں۔

یہ تمام رقم صوبے کی مختلف فیکٹریوں میں کام کرنے والے چھوٹے ملازمین کے ان بچوں کی ہے جو WWB کے تعلیمی وظائف پر انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ فنڈز کی عدم ادائیگی کے باعث یونیورسٹی انتظامیہ کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ کامسیٹس انتظامیہ اپنی مدد آپ کے تحت ان مزدور بچوں کے *کھانے پینے اور ہاسٹل کے اخراجات* تک برداشت کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

(جاری ہے)

فنڈز نہ ملنے سے طلبہ کے امتحانات، نتائج اور آئندہ سمسٹر میں داخلوں کا عمل بھی تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ متاثرہ طلبہ نے ورکر ویلفیئر بورڈ کے رویے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ بورڈ کے افسران مسلسل حیلے بہانے کر رہے ہیں اور فائلیں دبا کر بیٹھے ہیں۔ طلبہ نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ *"فنڈز فوری جاری کرو، ورنہ احتجاج ہوگا"*۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر 20 کروڑ روپے کے اسکالرشپ فوری ریلیز نہ کیے گئے تو وہ کیمپس کے اندر اور صوبائی اسمبلی کے باہر شدید احتجاج کریں . اس واقعے نے خیبرپختونخوا حکومت کے تعلیمی ایمرجنسی کے دعوؤں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک طرف صوبے میں تعلیم کے فروغ کے نعرے لگائے جا رہے ہیں، دوسری طرف غریب فیکٹری مزدوروں کے بچوں کے تعلیمی وظائف تک ورکر ویلفیئر بورڈ جیسے ادارے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ورکر ویلفیئر بورڈ کے تاخیری حربوں سے نہ صرف 300 خاندان پریشان ہیں بلکہ مزدور طبقے کا ریاست اور تعلیمی اداروں پر سے اعتماد بھی متزل ہو رہا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ وہ معمولی تنخواہ دار ہیں، اگر اسکالرشپ نہ ملی تو ان کے بچے تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ متاثرہ طلبہ اور والدین نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، گورنر اور چیف سیکرٹری سے فوری نوٹس لینے اور 20 کروڑ روپے کے واجبات فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔