Live Updates

چین کے نائب صدر ہان ژنگ نے ٹرمپ کا استقبال کیا‘کل صدر شی سے ملاقات ہوگی

صدرڈونلڈ ٹرمپ کے وفد میں ایلون مسک‘ ایرک ٹرمپ‘ جیرڈکشنر‘امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں ایپل، ٹیسلا اور نویڈیا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرز شامل

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ 13 مئی 2026 18:59

چین کے نائب صدر ہان ژنگ نے ٹرمپ کا استقبال کیا‘کل صدر شی سے ملاقات ہوگی
بیجنگ/واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 مئی ۔2026 ) امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے وفد میں ایلون مسک‘ان کے بیٹے ایرک ٹرمپ‘ داماد جیرڈکشنر‘امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں ایپل، ٹیسلا اور نویڈیا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرز بھی شامل ہیں اس سے قبل جب صد ٹرمپ ایئر فورس ون سے اترے تو چین کے نائب صدر ہان ژنگ ان کے استقبال کے لیے موجود تھے 2017 کے دوران ٹرمپ کا چین میں استقبال کرنے کے لیے ایک سٹیٹ کونسلر کو بھی بھیجا گیا تھا .

(جاری ہے)

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حجم میں کمی آئی ہے، جو بڑھتی ہوئی تجارتی رسہ کشی اور اس کے نتیجے میں عائد کیے گئے محصولات اور دیگر تجارتی پابندیوں کے باعث ہے گذشتہ برس امریکہ اور چین کے درمیان دو طرفہ تجارت کی مالیت 414.7 ارب ڈالر تھی، جو 2022 میں 690.4 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے.

صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا مسئلہ اس تجارت کی غیر متوازن نوعیت ہے جس میں گذشتہ سال امریکہ نے چین سے 200 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت اشیا خریدیں جبکہ چین کو فروخت کی گئیں اشیا کی مالیت اس سے کم تھی اس مسئلے سے نمٹنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ چین کو مزید امریکی اشیا فروخت کی جائیں جو ملک کے اندر روزگار اور مواقع پیدا کرنے کے باعث مقبول ہوگا اس طریقے پر عمل ہونے کی صورت میں ممکنہ طور پر سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں امریکی سویا بین کے کاشت کار اور گائے کے گوشت کے بیوپاری ہوں گے ان کے ساتھ ساتھ طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کو بھی فائدہ ہوگا.

رپورٹ میں صدرٹرمپ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکی صدر چاہتے ہیں کہ چین امریکا کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مصنوعات اور خدمات خریدے تاہم امریکی کمپنیوں کے مقابلے میں چین کے پاس کہیں زیادہ سستے متبادل موجود ہونے کی وجہ سے اس شعبے میں تعاون کے امکانات کم ہیں ‘منافع کم ہونے کے علاوہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر بھی چین امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مصنوعات یا خدمات نہیں چاہے گا کیونکہ بیجنگ سائبرسیکورٹی کے حوالے سے امریکی کمپنیوں کو قابل اعتماد نہیں سمجھتا جہاں تک مصنوعات کا تعلق ہے تو چین ایپل اور ٹیسلا سمیت تقریبا تمام بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مختلف آلات یا پارٹس بناکرفروخت کرتا ہے.

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کے فائربیک کرنے کا فائدہ چین کو ہوا جس نے جوابی کاروائی کے طور پر امریکا سے زرعی مصنوعات جیسے کہ سویابین وغیرہ کی درآمدات کم کردیں جس سے امریکا کے زرعی شعبے کو شدید دھچکا لگا‘بیجنگ نے گزشتہ سال اپنی ضرورت کا سویا بین برازیل اور دیگر ممالک سے خریدلیا تھا اور اس ایک چیزکی وجہ سے امریکی کسانوں اور زرعی مصنوعات کے برآمدی شعبے کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا ‘رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کسی صورت بھی امریکا کو قابل بھروسہ نہیں سمجھتا کیونکہ امریکا کی ٹیکنالوجی کمپنیاں واشنگٹن کے لیے جاسوسی میں ملوث رہی ہیں اور حالیہ ایران ‘امریکا ‘اسرائیل جنگ میں بھی ان کمپنیوں کا کردار زیربحث رہا ہے اور تہران کی جانب سے الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں ایرانی قیادت کی ٹارگٹ کلنگ‘اہداف کے تعین ‘جاسوسی ‘لوکیشن ٹریکنگ سمیت موبائل فون اور دیگر جدید ڈیوائسزکو بطور ہتھیار استعمال کرتی رہی ہیں.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بند کمروں میں ہونے والے مذکرات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم بیجنگ اقوام متحدہ میں اپنے سفیر فوکانگ کے ذریعے واضح پیغام دے چکا ہے جس میں انہو ں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں یقینی طورپر یہ معاملہ دونوں صدور کی ملاقات میں غالب رہے گا‘انہوں نے ایران سے متعلق صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تھا ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے جنگ بندی کا تسلسل ناگزیر ہے انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر مزید حملوں کی باتیں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں اور آبنائے ہرمز کو جلد کھولا جانا چاہیے تاکہ تجارت بحال ہو چینی سفیر نے زور دیاتھا کہ ایران اپنی پابندیاں اور امریکہ بحری ناکہ بندی ختم کرے، جبکہ بامقصد مذاکرات ہی مسئلے کا حل ہیں. 
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات