قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاع پر بھاری اخراجات، ترقیاتی منصوبوں میں ریکارڈ کمی

قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں تقریباً پانچ ہزار ارب روپے‘دفاعی اخراجات ایک ہزار 689 ارب روپے جبکہ وفاقی ترقیاتی پروگرام پر صرف 333 ارب روپے خرچ کیے گئے. وفاقی وزارت خزانہ کی رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ 13 مئی 2026 17:13

قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاع پر بھاری اخراجات، ترقیاتی منصوبوں ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 مئی ۔2026 ) وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مالیاتی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان میں قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات، ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جانے والے بجٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہے ہیں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وفاقی اخراجات کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور دفاع پر صرف ہوا، جبکہ اس کے مقابلے میں ترقیاتی پروگراموں کے لیے مختص رقم بہت کم رہی.

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں تقریباً پانچ ہزار ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ دفاعی اخراجات ایک ہزار 689 ارب روپے رہے اس کے مقابلے میں وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) پر صرف 333 ارب روپے خرچ کیے گئے اسی عرصے کے دوران ملک کا مجموعی مالیاتی خسارہ کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 0.7 فیصد، یعنی 856 ارب 35 کروڑ روپے تک محدود رہا جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد کے برابر تھا.

رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی آمدن 14 ہزار 800 ارب روپے ریکارڈ کی گئی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نو ہزار 300 ارب روپے ٹیکس وصول کیا تاہم یہ مقررہ ہدف حاصل نہ کر سکا دوسری جانب غیر ٹیکس آمدن چار ہزار 600 ارب روپے رہی جس میں سب سے بڑا حصہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کا تھا جو دو ہزار 428 ارب روپے رہا حکومت نے اس دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 205 ارب روپے جمع کیے مالیاتی خسارہ کم رکھنے میں صوبوں کے سرپلس نے اہم کردار ادا کیا چاروں صوبوں نے مجموعی طور پر ایک ہزار 600 ارب روپے کا سرپلس دیا جو سالانہ ہدف سے 172 ارب روپے زیادہ ہے.

صوبائی سطح پر پنجاب نے سب سے زیادہ 824 ارب روپے کا سرپلس دیا، سندھ نے 441 ارب، خیبر پختونخوا نے 253 ارب اور بلوچستان نے 118 ارب روپے کا سرپلس ریکارڈ کیا رپورٹ کے مطابق مجموعی آمدن کا جی ڈی پی کے تناسب میں حصہ کم ہو کر 11.4 فیصد رہ گیا جو گذشتہ سال 11.7 فیصد تھا اسی طرح ٹیکس آمدن کا تناسب بھی آٹھ فیصد سے کم ہو کر 7.8 فیصد پر آ گیا سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کی وصولیوں میں بھی کمی دیکھی گئی، جبکہ صوبائی ٹیکس آمدن میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی.