ایران نے اپنی میزائل صلاحیتوں کا بڑا حصہ ‘ لانچنگ سائٹس کی اکثریت اور زیرزمین تنصیبات تک دوباہ رسائی حاصل کرلی ہے.امریکی خفیہ ایجنسیوں کا انکشاف
تہران نے آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع 33 میزائل سائٹس میں سے 30 میں آپریشنل صلاحیت بحال کر لی ہے‘خودکش ڈرونزبنانے والی فیکٹریاں بھی بڑی تعداد میں بحال ہوچکی ہیں‘ایران کے پاس میزائلوں کے ذخیرے کا تقریباً 70 فی صد حصہ بھی ابھی تک محفوظ ہے.نیویارک ٹائمزکی رپورٹ
میاں محمد ندیم
بدھ 13 مئی 2026
16:58
(جاری ہے)
رپورٹ کے مطابق تجزیوں میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران کے پاس ملک بھر میں پھیلے ہوئے موبائل لانچرز کا تقریباً 70 فی صد حصہ اب بھی موجود ہے، اس کے علاوہ اس کے پاس میزائلوں کے اس ذخیرے کا تقریباً 70 فی صد حصہ بھی محفوظ ہے جو جنگ شروع ہونے سے پہلے اس کی ملکیت میں تھا تخمینہ جات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تہران نے اپنی زیرزمین میزائل اسٹوریج اور لانچنگ کی تقریباً 90 فی صد تنصیبات تک دوبارہ رسائی حاصل کر لی ہے جو شدید بم باری کے باوجود ایرانی فوجی ڈھانچے کی استقامت اور دوبارہ تعیناتی کی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے. یہ تخمینے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنے لہجے کو سخت کرتے ہوئے اپنے پرانے بیان کو دوبارہ دہرایا ہے کہ تہران کے پاس اب کوئی بحری بیڑا باقی نہیں رہا اور اس کی فضائیہ تباہ ہو چکی ہے‘امریکی صدر جنگ کے آغازسے یہ بیان دن میں کئی بار دہراتے ہیں‘متعددبار انہوں نے ”ٹروتھ سوشل“پر یہ بیان دن میں ایک سے زائدمرتبہ پوسٹ کیا ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ان کے ملک نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کاری ضرب لگانے میں کامیابی حاصل کی ہے. ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ایک ایسی ترجیح ہے جو کسی بھی اندرونی معاشی تحفظات سے بالاتر ہے، باوجود اس کے کہ امریکہ میں جنگ کی لاگت، افراط زر اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق دباﺅبڑھ رہا ہے تاہم نئے انٹیلی جنس تجزیے بتاتے ہیں کہ ایران اپنی تزویراتی میزائل صلاحیتوں کا ایک بڑا حصہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے خاص طور پر وہ جو موبائل انفراسٹرکچر اور زیرزمین قلعہ نما تنصیبات سے وابستہ ہیں آبنائے ہرمز کے ساتھ ایرانی میزائل سائٹس کا پھیلاﺅتہران کے لیے ایک بنیادی عنصر ہے کیونکہ اس سمندری گزرگاہ کی تزویراتی اہمیت بہت زیادہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے. گذشتہ مہینوں کے دوران جہاز رانی اور توانائی کے حوالے سے باہمی دھمکیوں کے ساتھ خلیج میں تناﺅ میں اضافہ ہوا ہے جبکہ امریکی رپورٹس میں متبادل فوجی منصوبوں کی بات کی گئی ہے جن میں ایران کے خلاف آپریشنز کی توسیع شامل ہو سکتی ہے اگر موجودہ جنگ بندی ختم ہو جاتی ہے . ادھر امریکی ماہرین اور تجزیہ نگار صدر ٹرمپ کے بیانات اور سوچ سے متفق نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ جنگ سے واشنگٹن کی تنہائی میں ہردن اضافہ ہورہا ہے اور امریکا کے دیرینہ یورپی اتحادیوں کے علاوہ مشرق بعید میں جاپان‘ویتنام سے لے کر آسٹریلیا تک جبکہ ایشیاءاور مشرق وسطی میں انڈیا‘عرب ممالک کی اکثریت‘وسط ایشیائی ریاستوں سمیت خطے میں امریکی اتحادی واشنگٹن سے دوری اختیار کررہے ہیں کیونکہ جنگ مسلط کرنے کے جواب میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمزکی بندش سے پوری دنیا متاثرہوئی ہے‘پوری دنیا پر اس کے شدید معاشی اثرات مرتب ہورہے ہیں اسی طرح امریکا کے اندر بھی توانائی سمیت اشیاءضرویہ کی قیمتوں میں اضافے سے شہری پریشانی کا شکار ہیں. ماہرین کا کہنا ہے کہ ریپلکن اور ڈیموکریٹس سمیت سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں موجود عوامی نمائندوں کی خاموشی ان سب کے لیے وسط مدتی انتخابات میں بھاری پڑسکتی ہے‘کانگریس میں دوسری بڑی جماعت ہونے کے باوجودجنگ کے معاملے پر ڈیموکریٹس کی خاموشی کو آئینی ماہرین وتجزیہ نگار ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی حمایت قراردے رہے ہیں ‘ان کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس کی جانب سے کانگریس میں ”وارپاورزایکٹ“کے تحت 60دن گزرنے کے بعد قراردادنہ لانا معنی خیزہے جنگ یا کسی بھی فوجی آپریشن کی صورت میں امریکی صدر48گھنٹوں میں کانگریس کو آگاہ کرنے جبکہ 60دن کے بعد اجازت حاصل کرنے کا پابند ہے تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے ابھی تک آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا. ان کا کہنا ہے کہ کانگریس کے نصف سے زیادہ ممبران قانون کی اعلی ڈگریوں کے حامل ہیں اور انہیں آئینی تقاضوں اور آئین کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہیں تاہم کانگریس کے ممبران کی جانب سے کمیٹیوں کی روٹین کی کاروائیوں کے دوران ایران جنگ کے معاملات چند بے ضررقسم کے سوالوں پر مشتمل ہیں ‘تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ کوئی پارٹی بھی اربوں روپے کی فنڈنگ فراہم کرنے والی لابیزکو ناراض نہیں کرنا چاہتی ‘جن میں جنگی سازوسامان بنانے کمپنیوں کی لابی کے علاوہ تیل وگیس سمیت جنگ کے بڑے حامی اسرائیل کے حامیوں کی لابنگ پر بھی امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس قدرکھل کر تنقید کی جارہی ہے اس کے باوجود پارلیمان میں موجود جماعتوں سے سینیٹربرنی سینڈرسمیت ایک دو آوازیں ہی امریکی کانگریس کے ایوانوں میں سنائی دیتی ہیں ‘واضح رہے کہ سینیٹربرنی سینڈرکے جنگ کے لیے فنڈنگ روکنے کے بل کے خلاف صرف ریپبلکن ہی نہیں بلکہ ان کے دیرینہ اتحادی ڈیموکریٹس نے بھی مخالفت میں ووٹ دیا تھا‘بل میں جنگ کے لیے فنڈنگ کے علاوہ اسرائیل کو فراہم کی جانے والی سالانہ اربوں ڈالر کی مالی اور فوجی امدادروکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا.
مزید اہم خبریں
-
ڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ دورے پر چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے
-
قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاع پر بھاری اخراجات، ترقیاتی منصوبوں میں ریکارڈ کمی
-
ایران نے اپنی میزائل صلاحیتوں کا بڑا حصہ ‘ لانچنگ سائٹس کی اکثریت اور زیرزمین تنصیبات تک دوباہ رسائی حاصل کرلی ہے.امریکی خفیہ ایجنسیوں کا انکشاف
-
پشاور میں پاکستان کی پہلی اینڈوسکوپک کارڈیاک سرجری، بغیر سینہ کھولے دل کا کامیاب آپریشن
-
اقبال آفریدی کا بیٹے کے اقدام کا دفاع، خود بھی ملک چھوڑنے کی خواہش ظاہر کردی
-
ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے چین کی مدد کی ضرورت نہیں.صدرٹرمپ
-
دہلی اور کابل میں اس وقت کوئی تفریق نہیں، وزیر دفاع
-
ایران جنگ بندی کی کوششیں، قطر پس پردہ سفارت کاری میں متحرک
-
یورپی یونین کاتین اسرائیلی آباد کاروں اور حماس کی اہم شخصیات پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق
-
اسرائیلی فوج کی لبنان میں چرچ کے تقدس کوپامال کرنے اور حضرت مسیح کے مجسمے کو توڑنے کے مجرم فوجیوں کو علامتی سزائیں
-
امریکی شہریوں کی مشکلات سے زیادہ اہم ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے.ڈونلڈ ٹرمپ
-
فلائی دبئی کا لاہور، اسلام آباد اور پشاور کیلئے فضائی آپریشن غیر معینہ مدت تک معطل
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.