سندھ حکومت بڑی واضح ہے کہ ملزمہ پنکی کی ضمانت نہیں ہوگی بلکہ تفتیش بھی ہوگی اور قانون کے مطابق کارروائی بھی ہوگی

ملزمہ پنکی انسانی جانوں سے کھیل رہی تھی، لاکھوں لوگ نشے میں مبتلا ہوئے، اس کو کوئی رعایت نہیں ملے گی، ملزمہ کے سہولت کاروں کیخلاف بھی کارروائی ہوگی، ترجمان سندھ حکومت

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 13 مئی 2026 20:07

سندھ حکومت بڑی واضح ہے کہ ملزمہ پنکی کی ضمانت نہیں ہوگی بلکہ تفتیش بھی ..
کراچی (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 13 مئی 2026ء ) ترجمان حکومت سندھ سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ سندھ حکومت بڑی واضح ہے کہ ملزمہ پنکی کی ضمانت نہیں ہوگی بلکہ تفتیش بھی ہوگی اور قانون کے مطابق کارروائی بھی ہوگی، ملزمہ پنکی انسانی جانوں سے کھیل رہی تھی، لاکھوں لوگ نشے میں مبتلا ہوئے، اس کو کوئی رعایت نہیں ملے گی ۔   اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ انمول پنکی کی سہولت کاری ہورہی تھی، جب یہ گرفتار نہیں ہورہی تھی ، تو اس کی معاونت کی جارہی تھی، ہر ادارے میں کالی بھیڑیں ہوتی ہیں، کوئی نہ کوئی اس کی معاونت کررہا تھا، حکومت بالکل واضح ہے کہ پنکی خاتون کے خلاف کارروائی ہوگی، پھر اس کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو بالکل غیرمناسب تھا، اس کو کوئی قانونی جواز نہیں بنتا۔

(جاری ہے)

ان سب کے خلاف کاروائی ہوگی۔ پنکی خاتون لاکھوں انسانی جانوں سے کھیل رہی تھی، لاکھوں لوگ اس خاتون کی وجہ سے نشے کی لت میں مبتلا ہوئے ہیں۔اس ملزمہ خاتون کو پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیش کرنا کسی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ کوکین ڈیلر پنکی کے خلاف بہت سارے مقدمات ہیں، اس کی ضمانت نہیں ہوگی، تفتیش بھی ہوگی اور قانون کے مطابق کارروائی بھی ہوگی۔

کل آپ کے چینل پر یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، اور ملوث افسران کی معطلی نے ثابت کر دیا کہ یہ وعدہ محض الفاظ نہیں تھا بلکہ عملی اقدام تھا۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے واضح کیا کہ ملزمہ کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی، ضمانت کی راہ بھی روکی جائے گی، جبکہ اس کے نیٹ ورک میں شامل ہر سہولت کار اور معاون کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے بھرپور کارروائی جاری ہے۔

مزید برآں وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انمول پنکی کیس میں پولیس کا طرز عمل دیکھ کر افسوس اور مایوسی ہوئی، بطور وزیرداخلہ سندھ بہت شرمندگی محسوس ہورہی ہے کہ کیا اس طرح نظام چلے گا، اس معاملے پر جے آئی ٹی تشکیل دے رہے ہیں، جس میں میں ایڈیشنل آئی جی، انٹیلی جنس کا نمائندہ اور بیورو کریٹ شامل ہوگا، دیکھیں گے ریمانڈ کے لیے پولیس کا چالان کتنا مضبوط تھا، ملزمہ پنکی کے خلاف تمام مقدمات میں ریمانڈ لیا جائے گا، خاتون مجسٹریٹ کیخلاف بھی درخواست دینگے کہ ہائی فائی کیس میں 24 گھنٹے کا بھی ریمانڈ نہیں دیا، ریمانڈ نہ دینا بھی سوالیہ نشان ہے۔