پاکستان بڑھتے بیماریوں کے بوجھ پر قابو نہیں پا سکتا جب تک روک تھام، سکریننگ، صاف پانی اور عوامی صحت بارے آگاہی کو ترجیح نہ دی جائے، سید مصطفیٰ کمال

بدھ 13 مئی 2026 20:21

پاکستان   بڑھتے   بیماریوں کے بوجھ پر قابو نہیں پا سکتا جب تک روک تھام، ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 مئی2026ء) وفاقی وزیر قومی صحت و خدمات سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے بڑھتے بیماریوں کے بوجھ پر قابو نہیں پا سکتا جب تک روک تھام، سکریننگ، صاف پانی اور عوامی صحت بارے آگاہی کو ترجیح نہ دی جائے۔قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران انہوں نے کہا کہ وزارت صحت کے پاس محدود مالی وسائل ہیں کیونکہ آئینی انتظام کے تحت زیادہ تر فنڈز صوبوں کو منتقل کر دیے جاتے ہیں جہاں صحت کے شعبے پر بنیادی اختیار بھی صوبوں کے پاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فی الحال ہیپاٹائٹس سی سے سب زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ لوگ اس بیماری کا شکار ہیں جبکہ سکریننگ کی کمی کی وجہ سے تقریباً 80 فیصد مریض اپنی حالت سے بے خبر ہیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اقدام پر حکومت نے ملک بھر میں مفت ہیپاٹائٹس سی سکریننگ اور علاج کا پروگرام شروع کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام اسلام آباد سے آزمائشی طور پر شروع کیا گیا ہے جس کے تحت 12 سکریننگ سینٹرز قائم کئے گئے ہیں جبکہ ایک سال کے اندر صوبوں کے تعاون سے ان مراکز کی تعداد کو پورے ملک میں 1,000 تک بڑھا دیا جائے گا۔سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس پروگرام کا تخمینہ 67 ارب روپے ہے، حکومت سکریننگ ٹیسٹ اور ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کے لئے ادویات کا تمام خرچ خود برداشت کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک سکریننگ ٹیسٹ کی لاگت تقریباً 7,000 روپے اور ایک مریض کے لئے ادویات کی لاگت تقریباً 34,000 روپے ہے لیکن شہریوں کو اس کے لئے کچھ بھی ادا نہیں کرنا پڑے گا۔وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص میں تاخیر جگر کے کینسر کے کیسز میں اضافے کا باعث بن رہی ہے اور زور دیا کہ روک تھام اور ابتدائی سکریننگ اموات اور طویل مدتی صحت کی پیچیدگیوں کو کم کرنے کے لئے ضروری ہے۔

تھیلیسیمیا کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے قانون سازوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے شادی سے پہلے جوڑوں کی سکریننگ سے متعلق قانون سازی کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ روک تھام کی سکریننگ بڑی تھیلیسیمیا والے بچوں کی پیدائش کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی ممالک نے جوڑوں کے لئے لازمی سکریننگ پروگراموں کے ذریعے اس بیماری پر کامیابی سے قابو پایا ۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا صحت کا نظام زیادہ بوجھ ہے کیونکہ ملک ایک "مریض پیدا کرنے والی فیکٹری" بن چکا ہے جہاں ہسپتالوں پر دبائو زیادہ ہے جبکہ روک تھام کی صحت پر توجہ ناکافی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیدائش میں وقفہ، ٹیکہ جات،صاف پینے کے پانی تک رسائی اور بہتر صفائی کے نظام پر عمل پیرا ہوتے ہوئے وسعت دینے کی ضرورت ہے۔مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پاکستان میں سالانہ تقریباً 61 لاکھ 30 ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں، تیزی سے آبادی میں اضافہ اور مناسب صفائی کی عدم موجودگی صحت کے چیلنجز کو مزید شدید بنا رہی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان سے کراچی تک بغیر ٹریٹمنٹ شدہ گندا پانی پینے کے پانی کے ذرائع کو آلودہ کر رہا ہے جس سے پانی سے پھیلنے والی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 68 فیصد بیماریاں آلودہ پانی سے منسلک ہیں اور زور دیا کہ پورا معاشرہ بشمول سرکاری ادارے، اراکین پارلیمنٹ اور عام شہری اس بحران سے نمٹنے میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ وزارت کا متعدی امراض کا یونٹ عالمی شراکت داروں بشمول گلوبل فنڈ کے تعاون سے ایچ آئی وی،ٹی بی اور ملیریا کے پروگراموں پر کام کر رہا ہے۔\932