ضیاء النجار میں تھوڑی بھی شرم ہے تو استعفیٰ دے دیں،پاسبان

جمعرات 14 مئی 2026 22:26

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 مئی2026ء) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ پنکی دال کا ایک دانہ ہے، یہاں پوری دال ہی کالی ہے۔ پنکی کا بچھایا ہوا جال کہاں تک پھیلا ہوا ہی پنکی کی دیدہ دلیری سے اس کی سسٹم پر گرفت کا اندازہ ہوتا ہے۔ منشیات فروش کو عدالت میں بغیر ہتھکڑی لگائے پیش کرنا قانون کی عملداری پر سوالیہ نشان ہے۔

پوری قوم پنکی کو سینہ تان کر عدالت کے سامنے چلتے ہوئے دیکھ کر ششدر رہ گئی ہے۔ اس ملک میں قانون سمیت سب کچھ برائے فروخت ہے۔ ضیاء النجار میں تھوڑی بھی شرم ہے تو استعفیٰ دے دیں۔ پاکستان پر منشیات فروش، بردہ فروش اور بلیک میلرز حکومت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا انتظامی ڈھانچہ دیمک زدہ ہے۔

(جاری ہے)

رشوت کا گھن سب کچھ چاٹ چکا ہے۔جرائم کے تانے بانے اوپر تک جاتے ہیں۔

سارے نیٹ ورک پر ہاتھ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ فیلڈ مارشل پورے سسٹم کو ٹھیک کریں، قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ منشیات نے نوجوان نسل سے محنت کرنے کی امنگ اور جینے کا جذبہ چھین لیا ہے۔ اسکولوں ، کالجوں اور جامعات میں منشیات فروشی کا منظم نیٹ ورک کام کر رہا ہے اور سسٹم نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ سسٹم ڈالر کی زبان سمجھتا ہے اور اسی کی پوجا کرتا ہے۔

پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں منشیات فروش گروہ کی سرغنہ کی گرفتاری پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے مزید کہا کہ گرفتار ملزمہ کو پروٹوکول دینے پر ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال، ایس آئی یو انسپکٹر ظفر اقبال کو معطل کرنا خوش آئند ہے مگر کیس کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہئے۔

قوم ایان علی کیس بھولی نہیں ہے ،ریاست کو بھی نہیں بھولنا چاہئے۔ ایک منشیات فروش کو ملک کا ہیرو بناکر پیش کرنا قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ اتنے عرصے تک وہ منشیات فروشی کرتی رہی کیا قانون کے رکھوالے مال بٹورنے میں لگے رہی منشیات فروش خاتون کی دھمکی آمیز آڈیو لیک نہ ہوتی تو شاید گرفتاری بھی نہ ہوتی۔ جس جس نے کمایا ان کی بھی تلاش کی جائیاور انہیں بھی شامل تفیش کیا جائے اور منظر عام پر لایا جائے۔ قانون سب کے لئے برابر ہے سفید جھوٹ ثابت ہوچکا ہے۔ عام آدمی کے لئے قانون الگ اور مالدار یا بااثرکے لئے قانون الگ ہے واضح ہوچکا ہے۔ دال میں بہت کچھ کالا نظر آرہا ہے، شفاف تحقیقات ہوتی بھی ممکن نظر نہیں آرہیں۔ کمیشن تشکیل دیا جائے۔